تحدیث نعمت — Page 526
= ۵۲۶ H میں نے کہا اس محلے میں میری رائے کوئی منی نہیں رکھتی کیونکہ مجھےآپ کی کی طاقت کا کوئی علم نہیں البتہ من است عرض کر دیتا ہوں کہ اس سوال پر غور کرتے ہوئے آپ صاحبان یہ امر در زمین میں رکھیں کہ اسرائیل کے لئے سمندا کھلا ہوگا۔امریکہ کے یہودی طبقہ کی طرف سے جو بہت مالا ہے اسرائیل کو ہرقسم کی مد پینے کی توقع ہوسکتی ہے۔اور اسرائیل کی جنگی تیاری اور تربیت آپ کے اندازے سے کہیں بڑھ کر ہے۔اس قیام کے دوران جامعہ دمشق میں فلسطین او اقوام متحدہ کے موضوع پر میری تقریر ہوئی۔قضیہ فلسطین کے مختلف پہلو بعد میں بھی اسمبلی کے نہ یہ غور آتے رہے ہیں اور پاکستان کی طرف سے ہمیشہ عرب موقف کی سو فیصدی تائید کی جاتی نہ ہی ہے۔قائد اعظم کی خواہیش کہ میں وزارت کی پہنچنے پر میں اعظم کی دم میں حاضر ہوا اور ن کی سرگرمیوں خارجہ پاکستان کا قلمدان سنبھالوں کی مختصر رپورٹ ان کی خدمت میں زبانی عرض کردی۔فرمایا اب تمہارا کیا پروگرام ہے۔میں نے عرض کی اب بھوپال جاؤں گا۔ذرا تیز لہجے میں فرمایا تم کب ان مخمصوں سے فراغت حاصل کروگے؟ کیا تم نہیں دیکھتے کہ ہمیں تمہاری یہاں ضرورت ہے۔میں نے عرض کی میں اگر کسی خدمت کے قابل ہوں ہے۔نے کسی تو حاضر ہوں۔پوکھا لا ہو رہ جاؤ گے ؟ عرض کیا لا ہو بہ ہوتا ہوا بھوپال جاؤں گا۔فرمایا لیاقت علی خان کی طبیعت علیل ہے وہ لاہور میں ہیں تم وہاں ان سے ملنا۔تعمیل ارشاد میں لا ہور نوابزادہ لیاقت علی ناں صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔انہوں نے دوران گفتگو میں دریافت فرمایا قائد اعظم نے تمہارے ساتھ کوئی بات چیت کی ہے ؟ میں نے کہا آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کا ارشاد فرمایا تھا۔نواب زادہ صاحب ہر صورت یہ ہے کہ ہمیں پکستان میں پریم کوٹ قائم کرنا ہو گا۔اس کے قواعد رب کرنے اور جوں اور عملے کے انتخاب اور تقری کے لئے تو کچھ وقت درکار ہوگالیکن چیف جسٹس کا تقر جلد ہونا چاہئے اکہ وہ ان تمام مور پر غور کرنا شروع کیے۔ایک تو یہ ہے کہ تم پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا منصب سنجالو اور ان امور کے متعلق غور کر نا شروع کرد - پھر تقسیم نجاب کے تھے میں جو ہل چل مچی ہے اور ابتری پیدا ہوئی ہے مخصوص پناہ گزینوں کی بھرمار اور مختلف صیغہ جا کے افسران در عملے میں جو خلا پیدا ہوا ان سب امور نے مل جل کر اس صوبے میں انتظامی حالت خراب کر دی ہے۔متاز دولتانہ سے تو کچھ ہوسکتا ہے وہ کر رہے ہیں لیکن دو ہتے ہیں یہ اکیلے ان کے بس کی بات نہیں۔انہوں نے قائداعظم سے کہا ہے کہ میاں کسی بے لاگ اور صاحب عزم چیف منسٹر کی ضرورت ہے اور مشورہ دیا ہے کہ وہ تمہیں یہاں بھیج دیں۔تیسرے مرکزہ میں بھی آدمیوں کی ضرورت ہے علاوہ وزارت عظمی کے دفاع اور امور خارجہ کے قلمدان بھی میرے سپرد ہیں یہ بھی ایک شخص کا کام نہیں۔تم چاہو ت مر نہ میں آجاؤ۔ان سب باتوں پر غور کر کے تم ان منش مجھے تبا دنیا۔ظفر اللہ۔میں آپ کے ارشاد کے مطابق غور کرنے کے بعد حاضر خدمت ہو کر گذارش کر دوں گا۔