تحدیث نعمت — Page 525
۵۲۵ کے مندوب مجھ سے اکریئے۔ان کی آنکھوں سے آنسو بہ رہے رہے تھے۔میرے شانے پر ہاتھ رکھا ارتبات نوریک لہجے میں کہا۔مسٹر منسٹر پر سوں رات تک تو ہمارا وہی موقف تھا جو میں نے اپنی تقریر میں بیان کیا تھا۔اب مجھے یہ ہدایت موصول ہوئی ہے کہ تقسیم کے حق میں رائے و تقسیم کے من میں رائے شماری میں جب پانی کا نام پکارا گیا تو ایک بیدلی سے کہی گئی یہاں سنی گئی۔منزل رومی لو نیو یارک سے واپس روانہ ہو چکے تھے۔فلپائن کا نام دیا ہے جانے پر جواب ملاثانی اسی طرح لائیر یا کا جواب ہاں تھا۔لاطینی امریکہ کی ریاستوں میں سے صرف کی بانہ "پہاڑا رہا۔تجویز کے حق میں دو تہائی آیا ہو گئیں۔جونیہ منظور ہوگئی۔اقوام متحدہ کی بنیاد انصاف ، مساوات اور حق خود اختیاری پر رکھی گئی تھی لیکن فلسطین کے معاملے میں ان تینوں اصولوں کا خون کیا گیا۔میثاق اقوام متحدہ میں معاہدات کی پابندی پر زور دیا گیا ہے لیکن فلسطین کے معاملے میں برطانیہ نے جو معاہدات شاہ حسین کے ساتھ کئے تھے ان کی صریح خلاف ورزی کی گئی۔یہ درست ہے کہ تقسیم کے متعلق رائے شماری میں برطانیہ غیر جانبدار رہا۔لیکن برطانیہ اعلان بالفور کے ذریعے اسرائیل کی بنیاد رکھ سکا تھا ار فلسطین کے قضیے کی ابتدا ء اعلان بالفور سے ہوئی۔فلسطین میںجو کچھ ہوا اور جو کچھ آئندہ ہونے والا ہے اور فلسطین کی وجہ سے جس طرح دنیا کا امن یہ باد ہوگا دو نوع انسان کے ایک بڑے طبقے پر جو تباہی اور مصائب وارد ہوں گے ان تمام تر ذمہ داری اول برطانیہ اور سر بالفور ر اوران کے بعد ریاستہائے متحدہ امریکی اور اس طور پر صدر ٹروین فلسطین پر برطانیہ کی نگرانی ختم ہونے کے دوستے دن صیہونیوں کی طرف سے اسرائیل کے قیام کا اعلان ہوگیا۔یہ ان ہوتے کہ صدر دین کی حکومت نے اسرائیل کو لیک کرنے اعلان کر دیا۔جب مجلس امن میں اسرائیل نے اقوام متحدہ کی رکنیت کی درخواست پیش کی تو اس پر رائے شماری کے وقت برطانیہ غیر جانبدار رہا۔جب بر درخواست آملی میں پیش ہوئی تو میثاق اقوام متحدہ کی دفعہ ۲۷ کے فقرہ ۳ کی صریح عبارت کے خلاف با وسو د ایک منتقل کین مجلس امن کی تائید حاصل نہ ہونے کے محلی امن کی سفارش بحق اسرائی کو جام قرار دیکر امی نے اسرائیل کی رکنیت قبول کرلی۔اسمبلی میں فلسطین کی تقسیم کی تجوری منظور ہونے کے بعد میں نیویارک سے واپسی کے سفر یہ پروانہ ہوگیا۔استید نایس خوری نے جو شام کے وفد کے سربراہ تھےمجھے مشورہ دیا کہ تم رستے میں ورون دمشق ٹھہر جاؤاور یہاں جو کچھ ہوا اس کی تفصیلات شام اور دیگر اراکین اقوام متحدہ کی حکومتوںکے نمائندوں کو بتاتے جاؤ، چنانچہ انہوں نے مشق اطلاع کردی اور میں تین دن دمشق ٹھہر گیا۔السید صاحب المعالی شکری القوتلی وہ میں جمہوریہ سوریا نے آزاد عرب حکومتوں کے وزرائے خارجہ کے سیکر یٹریوں کو دمشق طلب فرمالیا ہوا تھا۔میں نے ان کی خدمت میں تمام تفاصیل گزارش کر دیں دوران کفتگو مجھ سے سوال کیا کیا کہ فلسطین پر برطانیہ کی نگرانی ختم ہونے پرہم اسرائیل کے قیام کے خلاف جنگ کریں یانہ کریں؟