تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 490 of 736

تحدیث نعمت — Page 490

٤٩٠ 144 1971 ور وہ منتخب ہو گئے۔وہ متواتمہ ۲۱ سال بین الاقوامی عدالت کے بج رہے ہ سے ۹ تک عدالت کے صدر بھی رہے۔در فروری شاید کو میشن پر گئے۔نومبر میں رحلت فرما گئے۔کیبنٹ مشن کا تقریہ اتوار تک بھی ہندوستان کے آئندہ آئین کے بارہ میں مل لی اور کانگریس کے درمیان کوئی مفاہمت نہیں ہو سکی تھی۔ادھر بر طانوی حکومت اعلان کر چکی تختی که مند دستان جلد آزاد ہو جائے گا۔اس وقت جہاں تک اندازہ کیا جاسکتا تھا وزیر اعظم اٹلی تقسیم ہند کے بالکل حامی نہیں تھے اور وہ چاہتے تھے کہ کوئی ایک حل تلاش کیا جائے جس سے ہندوستان کی سیاسی اور اقتصادی وحدت بھی قائم رہے اور سالایک اور کانگریس دونوں اسے قبول بھی کر لیں۔چنانچہ لاء کے موسم بہار میں انہوں نے اپنے تین رفقاء لارڈ پیتیک دار نیس (وزیر بند ) مسٹر الیگزینڈر (وزیہ حجر ) اور سر سٹینفورڈکر پیس لارڈ پر لوی سیل) کے سپرد یہ کام کیا کہ وہ ہندوستان جا کہ دونوں سیاسی جماعتوں اور رہ کردہ سیاسی شخصیتوں کے ساتھ مشورہ کر کے ہندستان کی سیاسی گھی کو سلجھائیں۔لارڈ پیتھک لار نہیں برسوں سے ہندوستان کی آزادی کے حامی تھے اور سند دستانی مسائل میں گہری دلچسپی لیتے رہے تھے۔سر سٹینفورڈ کر پس برطانوی وزارت کی قابل ترین شخصیت شمار ہوتے تھے ہندوستانی سیاست کے ساتھ گہری دلچسپی رکھتے تھے گو کانگرس کے حامی شمارہ کئے جاتے تھے۔ایک مرتبہ پہلے بر طانوی حکومت کے نمائندے کی حیثیت سے انکی مساعی اس بارے میں ناکام ہو چکی تھیں۔مسٹر الگزینڈر ہمدرد اور ملنسار طبیعت رکھتے تھے لیکن اس سے قبل انہیں ہندوستانی سیاست سے واسطہ نہیں پڑا تھا۔اس مشن کا نام کینٹ مشن مشہور ہوا۔دتی پہنچتے ہی وفد نے شدت گرما کے باوجود نہایت سرگرمی سے اپنا کام شروع کر دیا اور حصول مقصد کی مساعی میں کوئی دقیقہ اٹھانہ رکھا۔دونوں سیاسی جماعتوں کے اختلافات استقدر پیچیدہ صورت اختیار کر چکے تھے کہ ملک کے کسی طبقے میں بھی برطانوی وند کی کامیابی کی توقع نہیں کی جاتی تھی لیکن وند کی مساعی اور وزیر مند کی رانہ سالی میں جال متی کامیاب ہوئیں اور دود کے تجویز کردہ منصوبے کی آخری شکل پر سلم لیگ اور کانگریس اتا ہو ا ا ا م اعظم کو سلم لیگ کی توسل کی رضامندی حاصل کرنے میں کسی قدر وقت کا سامنا ہوا۔لیکن کونسل نے آخران کا مشورہ قبول کر لیا اور دن کی تجویز کی منظوری دیدی۔پرسوں کی کشمکش اورنگ ودو کے بعد ملک بھر نے اطمینان کا سانس لیا۔لیکن یہ اطمینان دیر یا ثابت نہ ہوا۔کینٹ مشن کا تجویز کردہ منصوبہ جسے کینٹ مشن کے منصوبے کا مختصر خاکہ یہ تھا کہ ملک کو تین علاقوں کانگریس اور سلم لیگ نے منظور کر لیا میں ترتیب دیا جائے (1) بنگال اور آسام (۲) پنجاب ، سندھ، بلوچستان اور صوبہ سرحد (۳) باقی تمام صوبجات ان تینوں علاقوں کی اپنی اپنی علاقائی حکومت |