تحدیث نعمت — Page 489
۴۸۹ جنگ ختم ہونے کے بعد برطانوی حکومت نے فلسطین کے قضیہ کو سلجھانے کی کوشش کی۔عرب اور ہونی مشد و بین کو لندن بلایا۔چونکہ عرب مندو میں مہونی مندوبین کے ساتھ ملکہ بیٹھنے کو تیار نہ تھے لہذا مسٹر ارنسٹ ہیون وزیر خارجہ بر طانیہ نے ان سے علیحدہ علیحدہ گفتگو کا سلسلہ شروع کیا۔بعد میں مسٹر بون نے اقوام متحدہ میں بیان کیا کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں فریقین کے موقف استقدر قریب ہو گئے تھے کہ یقینا کوئی تصفیہ ہو جاتا لیکن عین اس وقت امریکن صدر ٹرومین نے حکومت برطانیہ کے نام ایک تار بھیجا کہ ایک لاکھ یہودی مہاجرین کو فلسطین میں داخلے کی فوراً جازت دیجائے اس تالہ کی عام اشاعت ہو گئی اس پر عرب مندوبین بر افروختہ ہوگئے اور ہونی مندوبین کے مصلے بڑھ گئے اور با بی تصفیے کی امید جاتی رہی۔حکومت برطانیہ نے قضیہ فلسطین اقوام متحدہ میں پیش کر دیا۔اسمبلی نے ایک کمیشن مقرر کیا کہ حالات ا پورا جائزہ لیکر فریقین کے بیانات پر غور کرنے کے بعد رپورٹ کرے۔ہندوستان بھی اس کمشن کے اراکین میں شامل تھا۔کمشن میں ہندوستانی مندوب سر عبدالرحمن تھے تو تقسیم ملک سے قبل مدراس ہائی کورٹ کے اور پھر لاہور ہائی کورٹ کے جی تھے اور تقسیم کے بعد پاکستان سپریم کورٹ کے حج ہوئے۔اس کمشن کے سامنے مسٹر موشے شیر نے جو بعد میں اسرائیل قائم ہونے پر اس لک کے وزیر خارجہ ہوئے مودی ایجنسی کی طرف سے بیان دیتے ہوئے کہا۔محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے ہمارے تین قبائل کو معاذ اللہ ظلماً مدینے سے نکال دیا تھا۔معلوم ہوتا ہے ان کے اس بیان کے وقت سر عبد الرحمن موجود نہ تھے یا ان کی توجہ ادھر نہ بھی درند مسٹر شیرٹ پر سوالات کے ذریعے ان کے منہ سے اس ایندا دہی اور ان غداریوں کو تسلیم کر ایا جاسکتا تھا جود مدینہ طیبہ کے یہودیوں نے ایک لمبے عرصے تک بار بار سرور دو عالم سے کیں جن کی پاداش میں انہیں مدینے سے کے بعد دیگرے خارج کیا گیا۔آخر کار اس کمشن نے سفارش کی کہ فلسطین کو تقسیم کیا جائے۔ہند کی طرف سے میرے ہندوستان واپس پہنچنے کے چندوں بعد پنڈت نہرو کی کو نیب کچھ کے لئے میری نامزد کی سر جارج سینس سیکر ٹری وزارت قانون جور اسر میرے ساتھ اسی حیثیت میں کام کر چکے تھے مجھے ملنے آئے اور کہا پنڈت جواہر لال چاہتے ہیں کہ نئی بین الاقوامی عدالت میں ہندوستان کا بھی ایک جج منتخب ہوسکے۔وہ سمجھتے ہیں کہ اگر تمہارا نام اس منصب کے لئے پیش کیا جائے تو کامیابی کی امید ہوسکتی ہے۔انہوں نے مجھے ارشاد فرمایا ہے کہ میں نہاری رضامندی حاصل کر دی۔میں مقامل تھا لیکن سر جارج مصر ہوئے تو میں نے رضامندی دیدی۔جموں کا انتخاب جنوری اید یا کے لندن کے اجلاس میں ہوا۔اسمبلی میں تو مجھے کثرت آراء حاصل ہوگئی لیکن مجلس امن میں میرا مقابلہ پولینڈ کے قانون دان مسٹر بوہم و نیار سکی سے ہوا۔دوسری یا تیسری بار کی رائے شماری میں انہیں کثرت حاصل ہوگئی