تحدیث نعمت — Page 385
۳۸۵ 191ء اپنے نمائندے کی حیثیت سے آخری فیصلہ تو میرا ہو کرے گا لیکن یں امید کرتا ہوں کہ ہمارے سب فیصلے نہ صرف با می شوری سے ہوں گے ملکہ بالاتفاق ہو کریں گے۔اس سے ان کا اطمینان ہوگیا اور ان تینوں اصحاب نے بھی حکومت ہند کی دعوت قبول کر لی۔برطانیہ کے وزیر تجارت کرنیل آلیور ٹینلے تھے۔پولارڈ ڈاری کے فرزند تھے۔وزارت کے سیکریٹری مسٹر براون نہایت قابل اور زود ہم تھے۔ہمارے ساتھ گفتگو کے لئے وزارت کی طرف سے ایک وفد مغر کیا گیا جس کے پیرین تو سر فریڈرک وائیٹ تھے لیکن باقی سب راکین سرکاری افسر در مبصرین تھے سر فریڈرک ہندوستان کی اسمبلی کے پہلے صدرہ چکے تھے اور غالبا یہ فرض کی گیا ہوگا کہ وہ ہندوستانی مسائل اور مزاج کو خوب سمجھتے ہیں۔لیکن یہ مفروضہ محض وہم ثابت ہوا۔ان کے مشیر بودند میں شامل تھے بیشک اپنے فرائض منصبی کی سرانجام دہی کے لحاظ سے نہایت قابل اور تجربہ کار اصحاب ہوں گے لیکن ہماری مشترکہ مہم کے لحاظ سے محض لکڑی کے محتے تھے۔میرے ساتھ صرف ایک سیکریٹری تھے۔سر راکھوان پہلے آئی سی ایس جب میں نے مور میں نے عہدے کا چارہ کیا تو مر صالح اکر میری نے ( مجھ سے ذکر کیا کہ انڈین سول سروس کے مٹر این آر پہلے جو ان دونوں کمیٹی میں کسٹمز کے کٹر تھے نہایت قابل افسر ہیں۔اگر چہ سر جوزف بھور اور سر کے دونوں صوبہ اوراس کے رہنے الے تھے اور دونوں عیسائی تھے اور دونوں کی بیویاں انگریز ہیں یکن دونوں کے درمیان کوئی ایسا ربط نہیں تھا میں نے سریلے کواپنے ملک میں ڈپٹی سیکریٹری مقر کر دیا اور دو سے کیا قابل ثابت ہوئے جیسے سٹرحیدری نے کہا تھا کہ اس سے بھی بڑھ کر جائنٹ سیکریٹری کی جگہ خالی ہونے پر وہ جائنٹ سیکیر بڑی ہوئے۔بعد مں وہ حکومت ہند کے ممتاز عہدوں پر فائز ہوئے اور ناٹ پٹ کا خطاب بھی پایا تجارتی دند میں وہ میرے واحد سرکاری مشیر اور سکیم پڑی تھے۔وہ بڑی خوبی سے اپنے فرائض کو سرانجام دیتے رہے۔دونوں وفود کے پہلے اجلاس میں ہی میں نے اندازہ کر لیا کہ وفود کے درمیان گفتگو کا سلسلہ تو بہت طویل ہو جائے گا اور ہم کسی خاطر خواہ نتیجے پر نہ پہنچ سکیں گے۔دو چارا جلاسوں کے بعد میں سرفنڈ لیٹ سٹوارٹ نائب وزیکہ مہند سے ملا اور خاطر اجلاسوں کی کاروائی کی کیفیت ان سے بیان کی۔انہوں نے میرے ساتھ اتفاق کیا کہ اس طور پہ کام کرنا نتیجہ خیرنہ ہوگا انہوں نے فرمایا میں براؤن سے کہوں گا کہ تمہاری آپس میں براہ راست بات چیت ہو تو زیادہ تسلی بخش صورت پیدا ہو جائے گی۔جب وہ مسٹر براؤن سے بات کر چکے تو مجھے فرمایا اب تم خود برہان سے مل لو۔میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہیں بہت بیدار مغز با یا۔ہم نے آپس میں یہ طرق کا رے کیا کہ دور کے درمیان باہشات کا طریق ترک کر دیا جائے۔ہم آپس میں کام کی ایک ترتیب طے کر لیں۔اس ترتیب کے مطابق ہم دونوں آپس میں بات چیت کر کے جب کسی حصے پر مفاہمت کے قریب پہنچ جائیں تو میں اپنے وفد سے مشورہ کروں اور وہ اپنے وزیر صاحب سے مشورہ کریں اور اس کے بعد ہم ایک دو ملاقاتوں میں اس حصے کے متعلق فیصلہ کر لیا کریں۔ہمارا کام پیچیدہ بھی تھا اور طویل بھی اگر بر و ز براہ راست آپس میں سب میں الجھے رہتے تو کئی سالوںمیں بھی ختم نہ ہو سکتا۔