تحدیث نعمت — Page 384
م ٣٨ میں انہیں جانتا ہوں میری رائے میں وہ موزوں نہیں۔سر جیمز نے دریافت کیا تمہارے ذہن میں کوئی ایک شخص ہے ؟ میں نے کہا سر فیروز خان نون ہیں۔پوچھا وہ جانے کے لئے رضامند ہوں گے ؟ میں نے کہا شوق سے جائیں گے۔سر میزنے کہا تو پھر ابھی چلو اک لینے سے بات کریں۔وائسرائے نے بھی دریافت کیا کہ سرفراز خان نون رضامند ہوں گے ؟ میں نے کہا لیا ہوں گے۔میں زور لیتا ہوں۔وائٹریٹ نے وزیر بند کی خدمتمیں تاری دیا کہ رگ ان ظفراللہ عبود کے تقر ر نوسی صورت بھی رضامند نہیں وہ وزیر تعلیم پنجاب سرفروز خان نون کا نام پیش کرتے ہیں جو آکسفورڈ کے ایم اے ہیں ، بیرسٹر ہیں اور آٹھ سال سے پنجاب میں وہ یہ ہیں۔مجھے اتفاق ہے کہ ن کا تقر موزوں ہو گا۔آخر وزیر سند کو اپنی ضد ترک کرنی پڑی۔اور مک سرفروز خان نون کا تقر بطور ای کمتر دن ہو گیا۔جب ون پر ان کی رضامندی کا تار والے کو گیا تو انہوں نے کون میں اس کا ذکر کیا۔سرفرنی ٹوٹیں کچھ پڑھے لیکن پھر یہ کیا با وزیر بند خاص کر کے ہماری رائے زنی بے کار ہے۔شاہ جاری ششم کی تاجپوشی میں منی اور میں شہ جات شم کی تاجپوشی کی تقریب قرار پانی کیوت بطور نمائندہ برطانوی ہند شمولیت ہند کی طرف سے مجھے برطانوی ہند کا نمایندہ تجویز کیاگیا۔ہرزبانی مسی مہاراجہ بروده والیان ریاست کے نمائندہ تجویز ہوئے بین تا بپوشی بڑی دھوم دھام سے منایا گیا اور بخیریت سرانجام پایا۔کامن ویلتھ وزرائے عظام کی حسین تاجپوشی کے بعد کامن دینے کے وزرائے عظام کی کانفرنس کے اجلاس ہونی ہے کانفرنس میں شمولیت تھے۔اس کے نمائندوں میں بھی مجھے شامل کیا گیا۔اس کانفرنس میں کامن دینے کے وزرائے عظام سے شناسائی کا موقعہ میں آیا۔کانفرنس کے دور میں ہی سر بالون برطانیہ کی وزارت عظمی سے مستعفی ہوگئے اور مسٹر نیول چیمبر لین نے انکی جگہ لی۔حکومت برطانیہ کے ساتھ معاہدہ ان مصروفیتوں کے بعد برطانوی وزارت تجارت کے رند کے ساتھ معاہد تجارت کی ترمیم کی بات چیت تجارت کی ترمیم کے تعلق کو شروع ہونیوالی تھی۔ہندوستانی وفد کی قیادت میرے سپرد ہوئی میرے ساتھ تھے غیر سرکاری مشیر تھے۔نواب زادہ لیاقت علی خاں صاحب جو دس سال بعد پاکستان کے پہلے وزیر اعظم ہوئے ، سردار سرمانا سنگھ تو بعد می امپیریل کونسل آف ایگریکلچرل ریسر ان کے وائس چیرمین ہوئے سرایڈورڈ بنیتا جو بد می گورنر جنرل کی کونسل کے رکن ہوئے، ہمسر می شوم و اس ٹھاکر داس، مشرک تو بھا ئیتر ال بھائی اور مسٹری بڑی بولا۔جب حکومت ہند کی طرف سے ان اصحاب کو میرے سات اور میرا کام کر یکی دعوت بگٹی تو پہلے تین اصحاب نے تو با نام یہ دعوت قبول کرلی لیکن آخری تین کی طرف سے سر پر شوتم داس بھاکر داس مجھے لے کے لئے شملے تشریف لائے اور کہا ہم یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ مارا تقر محفی زیبائشی ہے یا واقعہ مں ہم مشیر ہوں گے۔میں نے کہا میری تو بی نیت ہے کہ آپ کے ساتھ ہر قدم پر پورا مشورہ ہو۔اور آپ کے مشورے سے فائدہ اٹھایا جائے۔حکومت کے