تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 356 of 736

تحدیث نعمت — Page 356

صرف جماعت احمدیہ کو گالیاں دی گئیں۔جماعت کے خلان کھدا چھالا گیا اور اشتعال پیدا کرنے کی کوشش کی گئی امام جماعت احمدیہ کی اپنے خطبات جمعہ کا نفرنس کے انعقاد کے بعد حضرت امام میں حکومت پنجا ئے احکام متذکرہ بالا پہ کڑی تنقید جماعت احمدیہ نے اپنے خطبات جمعہ میں احکام حکومت کے اس ناروا طرز عمل پر تنقید شروع کی ہر جمعہ کے دن سی آئی ڈی پولیس کے روانہ گو در اسپور سے موٹرسائیکل پر خطبہ جمعہ کے نوٹ لینے کیلئے قادیان آتے حضورہ کا ارشاد تھا کہ انہیں حضور کے قریب آرام سے بیٹھنے کی جگہ دی جائے تا کہ پوری طرح خطبہ سن سکیں اور اطمینان سے نوٹ لے سکیں۔ایسا نہ ہو کہ نور مخطبه تر سن سکیں یا کوئی فقرہ ادھورا اسنے سے غلط فہمی ہو اور اپنے فرائض کو پوری طرح سرانجام دینے سے قاصر رہیں۔خطبہ کے ختم ہونے پر یہ انسہ واپس گورداسپور جاتے اپنی رپورٹ تیار کر کے مٹر سرنگیں ڈیٹی کشتر کی خدمت میں پیش کرتے۔رپورٹ کا ترجمہ انگریزی میں ہو کر راتوں رات لاہور گورنمنٹ ہاؤس پہنچایا جا تا صبح * کی صبح گورنزا سے ملاحظہ فرماتے۔ہر ہفتے کے دن صبح کوگورنر صاحب حضرت امام جماعت احمدیہ کے پہلے دن کے خطبہ جمعہ کا انگریزی ترجمہ پڑھ لیتے۔پڑھتے ہوئے کڑھتے تو ضرور ہوں گے کیونکہ حضور ہمیشہ بات وضاحت سے زمانے کے عادی تھے۔اور ان خطبات میں حضور حکومت کے طرز عمل پر کڑی تنقید فرما رہے تھے لیکن گورینہ کو کہیں بھی ہاتھ ڈالنے کی گنجائش نظر نہ آتی۔بعد می گورداسپور کے بور مین سپر نٹنٹ پولیس نے جناب شیخ بشیر احد صاحب ایڈوکیٹ لاہور (سابق حج ہائی کورٹ لاہورہ ) سے کہا جب میں خطبہ جمعہ کا ترجمہ پڑھتا تھاتو کسی مقام پرٹی سمجھتا کہ اب یہ پھپنے لیکن اگلے ہی فقرے میں ایسی وضاحت ہو جاتی کہ کوئی بات قابل گرفت نہ رہتی۔گورنہ پنجاب کی خواہش پر ان سے میری ملاقات ہر صورت حال تھی جب شاہ میں میں لندن سے دائیں لاہور پہنچا۔ریل کے لاہور پہنچنے کا وقت شام کا تھا۔دوسرے دن صبح میں حضرت خلیفتہ المسیح کی خدمت اقدس میں قادیان حاضر ہوا اور جملہ حالات سے آگاہی حاصل کی۔اسی شام لاہور واپس آیا۔سید العام اللہ شاہ صاحب نے دریافت کیا کیا تم گورنر سے لو گے ؟ میں نے کہا نہیں! وہ حیران ہوئے اور کہا کیا منامناسب نہ ہو گا ؟ میں نے کہا میرے خیال میں مناسب نہیں ہو گا۔اگر میں ورنہ صاحب سے ملوں تو وہ فرمائں گے کہو کیا کہتا ہے۔اور مجھے ان سے کچھ کہنا نہیں۔اسلئے میرے انہیں ملنے سے کیا حاصل ؟ ہاں اگر وہ مجھے بلائیں تو اور بات ہے۔میں حاضر ہونے پر کہہ سکتا ہوں میں حاضر ہوں فرمائیے کیا ارشاد ہے ؟۔دوسری صحیح سردار سکندر حیات خاں صاحب نے ٹیلیفون پر فرمایا گورنر صاحب چاہتے ہیں تم ان سے آج دس بجے قبل ور پر مل لو۔اور اگر یہ وقت مناسب نہ ہو تو چار بجے بعد دو پر مل لو۔میں نے کہا میں دس بجے ان کی خدمت میں حاضر ہو جاؤں گا۔میں حاضر ہوا گورنہ صاحب نے میرے تقریر پر مبارکباد دی۔