تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 357 of 736

تحدیث نعمت — Page 357

۳۵۷ ظفر اللہ خان - آپ کا مار کبادی کانار مجھے مل گیا تھا اور میں نے جواب دیدیا تھا۔آپ کو مل گیا ہو گا۔گورنہ۔مال مل گیا تھا۔شکریہ مجھ سے جو مسلمان ملتے رہے میں ان سے کہتا رہا ہوں کہ آپ کے قریہ یہ اعراض کر نائیجری کو تاہ اندیشی ہے۔ظفر اللہ خاں۔شکریہ ! لیکن آپ کے تکلیف فرمانے کی ضرورت نہیں تھی۔حکومت نے جیسے مناسب سمجھا انتخاب کر لیا۔قصہ ختم ہوا۔گورنہ۔آئیے آرام کرسیوں پر مجھے کہ فراغت سے بات بہت کریں۔آرام کرسیاں ساتھ ساتھ بچھیں تھیں۔میں سمنے دیوار کی طرف ملکی لگا کر بیٹھا رہا اور گورنر صاحب پنے نقط نگاہ سے اس قضیے کی حکایت سناتے رہے۔قریباً ایک گھنٹہ اس میں صرف ہوا۔ان کی بات ختم ہو جانے پر بھی میں خاموش ہی بیٹھا رہا۔یں سمجھتا تھا کہ آخر صرف یہ قصہ سنانے کیلئے توانہوںنے مجھے نہیں لایا۔الٹے میں انتظار میں تھا کہ آخر انہیں مجھ سے کیا کہنا ہے۔میرے خاموش رہنے اور کچھ بھی نہ کہنے پر انہوں نے پھر وی قصہ شروع کر دیا لیکن اک بار سلے کی نیت مختصر کیا۔آخر میں کہامیں سمجھتا ہوں مرزا صاحب کو ایک حد تک شکوے کا حق ہے احرار نے حکومت کی اجازت کا بہت ہے جا فائدہ اٹھایا۔اگر مجھے پہلے سے اندازہ ہوتا کہ وہ اس موقعہ کو محض دشنام طرازی اور اشتعال انگیزی کیلئے استعمال کرینگے تو انہیں کا نفرنس کی اجازت ہرگز نہ ملتی۔میں نے کہا ان کے پہلے ریکارڈ سے تو حکومت کو بھی توقع ہونی چاہئے تھی لیکن اعجاز دینے کے بعد یہ کیسے ہوا کہ احمدیوں کو تو اپنے مرکز میں آنے سے رد کردیا جائے اور دوسری طرف سے کسی فساد کھڑا کر نیو الے کو بھی کوئی روک ہو۔اتناکہ کریں پھر خاموش ان کا عذر ستار تا اور اس انتظارمیں رہاکہ ان کا کچھ نشاء معلوم ہوکر مجھے انہوں نے کسی غرض کیلئے طلب فرمایا ہے۔آخر انہوں نے کہا مرزا صاحب نے اپنے رہنے اور شکوے کا کان اظہار کر لیا ہے میں سمجھتا ہوں اب ان کے خطبات کا یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔میں نے کہا میں اس کے متعلق کیا کر سکتا ہوں ؟ فرمایا میرا خیال ہے اگر تم ان سے بند۔کہا ہوں؟ اگر ان کوئی بات چیت کرو اور آپس کی غلط فہمی رفع ہو جائے تو یہ ایک مستحسن اقدام ہوگا۔میں نے عرض کیا مجھے دوباتوں کے متعلق غیرت ہے اول یہ کہ اگر نوٹس جاری کرنا لازم ہی ہو گیا تھا تو ناظر امور عامہ کے نام جاری ہونا چاہیئے تھا۔جنہوں نے احمد یہ جماعتوں کو آدمی بھیجنے کے لئے خطوط لکھے تھے۔اس پر فرمایا ہم نام مجماعت احمدیہ کے سوئے جماعت کے اور کسی کارکن کو تسلیم نہیں کرتے۔میں نے سمجھ لیا کہ یہ حکومت کے اندر حکومت والی رمتی ہے میں نے عرض کیا اچھی بات آپ تعلیم نہیں کرتے لیکن اس نوٹس میں کس حد تک معقولیت تھی کہ باقی تو ہر شخص کو کانفرنس کے دوران میں قادیانی جانے کی اجازت ہو۔اور صرف جماعت احمدیہ کے افراد کو اجازت نہ ہو کہ وہ اپنے مرکز میں جاسکیں۔یہ دونوں پہلو حضرت امام جماعت احمدیہ اور جماعت احمد کی تقرین کے ہیں اور مجھے سمجھ نہیں آتا کہ یہ طریق کیوں اختیار کیا گیا۔گورنر صاحب نے فرمایا چودھری صاحب صرف آپکی ذکاوت حس ہے۔میں نے کہا بیشک ہے۔جہاں انسان کی جہان سے بڑھ کر محبوب مستیوں اور اقدار کے احترام کا سوالی ہو ہر غیرت مند