تحدیث نعمت — Page 312
۳۱۲ کہا کہ اپنے تمام مفادکو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ آپ خود کریں۔لیکن میں صرف یہ گذارش کردوں گا کہ تو فیصلہ بھی کریں منفقه طور پر کریں اور قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے کریں۔ذاتیات کو درمیان میں نہ آنے دیں۔کہنے لگے ہاں ہاں لیکن یہ تو تباد ہم فیصدی سے کس قدر زیادہ کی ہم امید رکھ سکتے ہیں ؟ ۲م کی ۵م کی ؟ میں نے کہا ہم سے بھی زیادہ کی۔پوچھا کیا ان کا نیابت کے طریق سے؟ میں نے کہا بیشک۔فرمایا سچ کہتے ہو ؟ عرض کی یقینا سچ کہتا ہوں۔کہا تو بیس فیصلہ ہے ہمیں اور کیا چاہئیے ؟ میں نے مشورہ دیا کہ آپ اصحاب گورنز سے رابطہ پیدا کریں اور جو کچھ میں نے آپ سے کہا ہے اس کی تصدیق ان سے پائیں آپ کوان کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔اگر ھی سے آئین تعلقات ائم ہو جائیں گے اور اعتماد پدا ہو جائے گا تو آئندہ تعاون میں آسانی رہے گی۔میں تین دن کھلتے ٹھہرا اور صبح سے شام تک اس مہم میں مصروف رہا۔میرے دن گورز صاحب سے دو پیر کے کھانے پر ملاقات ہوئی اور میں نے مختصراً انہیں بتایا کہ مسلمانوں میں سے سریہ آوردہ اشخاص کی طرف سے وہ تعاون کی امید رکھ سکتے ہیں۔اگر گورنر صاحب ان کی طرف قدم بڑھائیں گے تو انہیں تعاون پر آمادہ پائیں گے۔مسٹرحسین شہید سہروردی | اس موقع پر کلکتے میں میری ملاقات مسرحسین شہید سہروردی سے بھی ہوئی بھی جوان تھے لیکن قابلیت ظاہر تھی میں نے وائس ایسے ذکرکیا او مشورہ دیا کہ ہائی کورٹ میں جگہ خالی ہونے پر نہ بھی پر ہو جاتا۔لیکن نہیں سیاسی سر گر میانی زیادہ مرغوب تھیں۔اچھوت اقوام کو جدا گانہ نیابت کی تجونیہ فرقہ دارانہ نیات کے متعلق حکمت برطانیہ نے جو فیصلہ صادر کے خلاف گاندھی جی کا برت اور معاہد ہونا کیا اس میں اچھوں کو علیحدہ نیات کا حق دیاگیا تھا۔اس فیصلے کے خلاف گاندھی جی نے پونا میں بہت شروع کر دیا۔جب گاندھی جی کی جسمانی حالت بہرت کے نتیجے میں کمزور ہونا شروع ہوئی تو ہندو لیڈران کی طرف سے بھاگ دوڑ شروع ہوئی کہ اچھی اقوام کے لیڈروں کے ساتھ کوئی سمجھوتے کی صورت نکالی جائے۔آخر پونا میں ایک معاہدہ ہوا اور اسکی اطلاع وائسرائے کو موصول ہوئی مجلس عاملہ کا اعلاس طلب ہوا۔وائسرائے نے فرمایا اس قصے کا فیصہ تو ہوگیا ہے لیکن گاندھی جی کی مال بہت کمزور ہو چکی ہے بلکہ ان کے بیان کی جاتی ہے۔مناسب ہوگا اگر ہماری طرف سے فوراور یہ ہند کی خدمت میں سفارش بھیج دی جائے کہ اس فیصلے پر مل در آمد کافوراًا علان کیا جائے ، تاکہ گاندھی جی اپنا بیت ترک کر دیں اور کوئی ناگوار صورت پیدانہ ہو۔میرے تمام رفقاء نے وائسرائے کی تجونیہ کے ساتھ اتفاق کیا میں نے کہا مجھے ایک درجہ سے کچھ تامل ہے۔وائسرائے۔یہ حیل و حجت کا موقع نہیں گاندھی کے بت کو بہت جلد ختم کرانا بہت ضروری ہے۔ظفر اللہ خاں۔آپ کیا فرماتے ہیں مجھے آپکو صر ا س کی طرف توجہ دلاتاہے کہ معاہدہ پونا میں بنا کے مندروں کا کوئی نماد شامل ہیں۔فرد دارانہ بات کا جو فیصلہ بر طانوی حکومت نے صادر فرمایا ہے اس میں اچھوت اقوام کے