تحدیث نعمت — Page 289
۲۸۹ هم می مثل سابق نمائندگان کے لئے استقبالیہ دعوت دیگئی۔سناگیا کہ گاندھی جی نے دعوت تو قبول کر لی ہے لیکن اس تقریب میں شمولیت کی خاطر اپنے لباس میں کوئی تبدیلی یا اضافہ کرنے پر رضامند نہیں ہوئے۔اور آخر کار تا ابدار برطانیہ کچھ تامل کے بعد انہیں ان کے روز مرہ کے لباس میں خوش آمدید کہنے پر رضا مند ہو گئے۔واللہ اعلم بالصواب یہ ہم نے بھی دیکھا کہ گاندھی جی اپنے روزمرہ کے لباس میں ہی تھے۔ہر میجسٹی نے مسکراتے ہوئے ان سے مصافحہ کیا اور دو تین منٹ آپس میں گفتگو رہی۔شاہ جارج پنجم کی آوانہ کی گونج در تک پہنچتی تھی۔ڈاکٹر امبید کار صاحب کے ساتھ مصافحہ کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا۔ڈاکر امید کار مجھے تو آپ سے مصافحہ کر کے بڑی خوشی ہوئی ہے ان دوسرے لوگوں کو آپسے مصافحہ کرنے میں کیوں تا تل ہوتا ہے ؟ واقعہ یہ تاکہ گول میز کانفرنس میں من ہے مہارا ہے اور کو ڈاکٹر امید کار صاحب کے ساتھ مصافحہ کرنے میں نام ہوتا ہوں لیکن کسی اور مندوب کی طرف سے ڈاکٹر امبید کارتاب کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک روا نہیں رکھا جاتا تھا۔مسلمان مندوبین تو طبعاً ڈاکٹر امبید کار صاحب کا دیسے ہی احترام کرتے تھے جیسے باقی اراکین کانفرنس کا اور وزیراعظم کے تودہ منظور نظر تھے۔علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب دوسری گول میز کانفرنس میں علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب بھی مسلم وند کی زینت تھے۔لندن میں ان کا دور دور وہاں کے فلسفی، ادبی اور متشر تین حلقوں میں بہت دلچسپی کا موجب رہا واند ارف ہوٹل میں آپکے اعزاز میں وسیع پیمانے پر استقبالی دعوت کا انتظام ہوا۔ڈاکٹر صاحب اپنے پرانے اور نئے احتبا کی طاقاتوں سے بہت محفوظ ہوئے لیکن کا نفرنس کی سست رفتاری سے ان کی طبیعت بہت اکتائی رہی۔( قائد اعظم مسٹر جناح نے پہلی گول میز کانفرنس کے اختتام پر ہندوستان واپسی کا ارادہ ترک کر دیا تھا۔اور عندن میں ایک پر فضا مقام پر ایک مکان میں رہائش اختیار کر کے پر لوی کونسل میں پریکٹس شروع کر دی تھی پہلی گول میز کانفرنس کی کاروائی سے وہ مطمئن نہیں تھے۔دوسری گول میز کانفرنس کی کاروائی بھی ان کے لئے زیادہ درپی کا موجب نہ ہو سکی۔سرسید علی امام صاحب دوسری گول میز کانفرنس میں سرسید علی امام صاحب بھی شریک تھے۔میں ابھی کالج میں پڑھتا تھا جب وہ آسمان سیاست کو روشن کر رہے تھے ان کے ساتھ ملاقات میں گئے بڑی خوشی اور فخر کا موجب بھی وہ بڑے اعلیٰ تعلق کے مالک تھے۔کمال شفقت سے پیش آئے نوہیری طرف بڑھ کر مجھے مصافحہ کی عزت بخشی اور فرمایا مدت سے ملاقات کا اشتیاق تھا۔حید ر امام سے اکثر تمہارا ذکر سنا ہے۔دوسری گول میز کانفرنس کی کاروائی میں فرقہ دارانہ نیابت کا مسئلہ ایک عقده لا تنجل بنا رہا۔اس سال برطانیہ کی اقتصادی حالت میں منعف آجانے سے برطانیہ طلائی معیار ترک کرنے پر مجبور ہوگیاتھا اس ایک نتیجہ یہ ہوا کہ ان مضوابط کے جاری کرنے کے مسلے پر برطانیہ کی وزارت میں اختلاف ہوگیا اور وزیراعظم میڈ ان مشتر کہ وزارت بنانے پرمجبورہوگئے