تحدیث نعمت — Page 258
ساتھ ایک مرکزی کیٹی شامل کی جائے گی جس کے اراکین مرکز کی اسمبلی اور کونسل آف سٹیسٹ منتخب کریں گی اور پر صوبے میں کمشن کے اجلاسوں کے دوران ایک صوبائی کمیٹی جسے صوبے کی کونسل منتخب کرے گی کمشن اور مرکزی کمیٹی کے ساتھ شامل رہے گی۔لیکن اس اعلان سے بھی ہندوستان کا ماری کوئی خوشگوار اثر نہ ہوا، بیشک یہ کہا گا تا کہ مرکزی اور صوبائی کمیٹوں کوگوا نان پر جبر کرنے کی پوری آزادی ہوگی اور پرکیٹ اپنی اپنی رپورٹ بھی پیش کریگی سکین ہرکوئی جانتا تھاکہ یہ کلیاں محضی اشک شوئی کے طور پر مقر کی جارہی ہیں اور کمشن کی رپورٹ پر ان کا کوئی اثر نہیں ہو گا۔خود کمشن کے متعلق بھی یہ تاثر تھاکہ یہ نام کانوکشن ہے لیکن دراصل اس کی تمام باگ ڈور ایک شخص واحد کے ہاتھویں ہے۔یعنی اس کے پھیر میں سرحان سائمن کے ہاتھ میں جو ابتداء میں تو بول سیاستدان تھے۔مسٹر اس کو شفقہ کی وزارت میں اٹارنی جنرل رہے تھے۔لیکن آہستہ آہستہ قدامت پسندی کی طرف رجعت کرتے گئے تھے۔ہندوستان کے آئینی مستقبل کے متعلق ان کا نظریہ نہایت رجعت پسندانہ تھا۔ان خدشات کی تصدیق کمشن کی رپورٹ نے کر دی۔کے آخر میں کشن نے ہندوستان کا ابتدائی دورہ کیا مشن نے تحقیقاتی کاروائی اپنے دوسرے دوسرے کے دوران شاہ میں کی۔کانگریس نے نوکشن کے ساتھ تعاون کیا لیکن مرکزی اور مبائی کمیاں کمشن کی کاروائی میں شامل رہیں۔پنجاب کونسل میں جب کمیٹی کے انتخا کی توبہ پیش ہوئی تو محبت کے دوران میں تجویز کے خلاف بہت سے دلائل پیش کئے گئے میں نے اپنی تقریر می ان دلائل میں سے اکر کے ساتھ اتفاق کا اظہارہ کی اور بڑے زور سے اس ات کی تردید کی کہ مرکزی اور صوبائی میاں کسی رنگ میںبھی کمشن کی ہندوستانی رکنیت کا بدل ہوسکتی ہیں۔میں نے اس ات پر بھی زور دیا کش میں ہندوستانی اراکین کوشام نہ کرنے کی کوئی جان ہی نہیں سکتی اور میں کشن کی رپورٹ کے متعلق کوئی امید افزا توقعات قائم نہیں کرنی چاہئیں۔بایں ہمہ میں نے اس رائے کا اظہار کیا کہ ہمیں کشن کی کاروائی سے عدم تعاون نہیں کرنا چاہئیے۔ہمارے تعاون سے کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہیں ہو سکتا اور کسی نفع کی کو پختہ امید نہیں لیکن ایک تو شہادت کے دوران میں ہم ایسے امور کشن کے رو برد نا سکتے ہیں جو مکن ہے ہمارے نمائندگان کی عدم موجودگی میں نمایاں طورپر ظاہر نہ ہوں اور دوسرے صوبائی کمیٹی پنی پور میں اپنا نظریہ وضاحت سے بیان کر سکتی ہے جس سے ممکن ہے کچھ فائدہ ہو سکے۔تجویہ منظور ہوئی اور صوبائی کمیٹی قائم ہوگئی اس کمیٹی کے سات ارکان تھے۔جن میں یورپین بھی تھے، سکھ بھی اور ہندو اور مسلمان مجھی۔سردار سکندر حیات خانصاحب اور میں دونوں اس کمیٹی میں شامل تھے۔کمیٹی نے سردار سکندر حیات خان صاحب کو چیر مین منتخب کیا۔کمیٹی کے انتخاب سے پہلے کہا جانے لگا کہ تینوں وزراء کمیٹی میں شامل ہونے چاہئیں۔اس وقت ملک فیروز خان نونی صاحب ، لالہ منوہر لال صاحب اور سردار جگندر سنگھ صاحب وزراء تھے۔کہا جاتا تھا کہ وزراء کو کمیٹی میں شامل کئے جانے کی تجویزہ کو میاں سر فضل حسین صاحب کی