تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 230 of 736

تحدیث نعمت — Page 230

۲۳۰ جہاں خاں صاحب کے نام کا۔اپنے جمعد الدار دلی سے کہا ان میں سے ایک اٹھالو اورہ اس میں تو یہ نہ ہے وہ نکالو جو پرندہ جمعدار نے نکالا اس پر میرا نام تھا لہذا چودھری جہان خاں صاحب انتخاب سے دستکش ہو گئے۔والد صاحب کی وفات اس کے تھوڑا عرصہ بعد والد صاحب کی طبیعت ناسانہ ہو گئی حرارت کے ساتھ | کھانسی رہنے لگی۔والدہ صاحبہ کے اطلاع دینے پر میں ڈسکے گیا اور والد صاحب اور والدہ صاحبہ کو لاہور لے آیا ڈاکٹر محمد یوسف صاحب نے معائنہ کیا اور WET PLUAESY تشخیص کی۔بہت توجہ سے علاج کرتے رہے فجزا اللہ احسن الجزاء - کچھ دن بعد پھیپھڑے سے پانی نکالا جس سے بفضل اللہ کچھ افاقہ ہوا لیکن پھر تکلیف بڑھنا شروع ہو گئی۔اس مرحلے پر ڈاکٹر محمد یوسف صاحب کو بعض فرائض کی ادائیگی کے سلسلے میں شملے کا سفر پیش آگیا۔ان کی غیر حاضری میں ڈاکٹر یار محمد خالصاحب علاج کرتے رہے۔دو تین دن بعد پھر پانی نکالنے کی تجویز ہوئی۔لیکن اب کی بانہ بجائے افاقے کے کمزوری بڑھنا شروع ہو گئی۔اسور اگست منگل والہ کی صبح کو بعد نمانه فجر والدہ صاحبہ نے مجھے بنا ایک خواب سنایا خواب کی تعبیر واضح تھی اور والدہ صاحبہ نے بھی یہی تعبیر بتائی کہ تمہارے والد جمعہ کا دن شروع ہوتے ہی فوت ہو جائیں گے۔انہوں نے فرمایا کہ ابھی سے سب تیاری کر لی جائے۔چنانچہ تفصیلی ہدایات دیں جن کی تعمیل کر دی گئی۔یہ دن ہم سب کے لئے سبق آموز بھی تھے اور اللہ تعالٰی کے فضل و رحم کے نشانات کے ظاہر کرنے وال بھی تھے۔دل درد سے پر بھی تھا اوراللہ تعالی کی رضا پر کلین راضی بھی تھا۔کچھ تفصیل ان ایام کی میری کتاب میری والدہ میں بیان کی گئی ہے۔یہاں اعادہ کی ضرورت نہیں۔اور مجھے ہمت بھی نہیں پڑتی۔والدہ صاحبہ کے خواب کے مطابق ۲ ستمبر امه بعد نماز مغرب جب اسلامی شمار سے جمعہ کا دن شروع ہی ہوا تھا ہم اس سیما پا شفقت بزرگ ہستی کی ہدایت اور نہ فاقت سے محروم ہو گئے يغفر الله له ويجعل الجنة العليا مثواه - والدہ صاحبہ کی ہدایات کے مطابق سب انتظام ہو چکا تھا دو بجے شب ہم ان کے جنازے کو لیکہ روانہ ہوئے طلوع آفتاب کے وقت قادیان پہنچے۔اسی رات حضرت خلیفہ المین با وجود یہ سنتے کی خرابی کے ڈہوندی سے قادیان تشریف لائے۔ہم رستمیر 9 بجے صبح اپنے ناظر اعلیٰ کا جنازہ پڑھایا اور سلسلہ کے پہلے ناظر علی امقبرہ بہشتی میں خاص صحابہ کے قطعہ میں دفن ہوئے۔پنجاب کونسل کے انتخاب میں کامیابی | والد صاحب کی وفات کے بعد مجھے اطلاع ملی کہ چودھری اکبری خای صاحب سکنہ کوٹلی نوناں تحصیل ڈسکہ انتخاب میں امیدوار ہونے کا ارادہ نہ کھتے ہیں۔پہلے تو میں نے اسن اطلاع کو باور نہ کیا۔پچودھری صاحب کے میرے ساتھ خاندانی اور ذاتی بہت دوستانہ تعلقات تھے اور وہ میرے معاف مین میں سے تھے بینک ان کی طبیعت مزاح کی طرف مائل تھی لیکن یہ معاملہ سنجیدہ تھا اور بہر صورت انہیں کامیابی کی کوئی امید نہیں ہو سکتی تھی۔معلوم ہوا ان کا موقف یہ ہے کہ قرعہ اندانی سے فیصلہ کرنا کہ