تحدیث نعمت — Page 229
۲۲۹ بھی میرے جذبات آپ کے متعلق وہی رہیں جو اتنک ہیں تو میں سمجھ لوں گا کہ میرا اندانہ اپنے متعلق صحیح تھا۔اور اگر ان میں فرق آگیا تو میں سمجھوں گا میرا نفس مجھے قریب دیتا تھا۔چودھری صاحب نے میری بات خاموشی سے سنی اور جب میں ختم کر چکا تو صرف اتنا فرما یا ظفر اللہ خان کاش سب لوگ تمہاری طرح ہوں۔جب شاہ کے انتخابات کا سلسلہ شروع ہوا تو معلوم ہوا کہ میرا مقابلہ چودھری جهان خانصاحب گورایہ کے ساتھ ہو گا۔چودھری صاحب ضلع سیالکوٹ کے ایک خوش خلق ، مہمان نواند، با رسوخ نہ میدانہ تھے۔ڈسٹرکٹ بورڈ کے رکن ہونے کی وجہ سے ضلع بھر کے سرکردہ زمینداروں کے ساتھ ان کا متواتر میل ہوں اور باہم مشورہ یہ تنہا تھا۔ان کے رشتہ داری اور بہادری کے تعات بھی بہت وسیع تھے۔ء میں کچھ دھری سرشہاب الدین صاحب کا مقابلہ کرنے کی وجہ سے انہیں انتخاب کے سلسلہ میں معتد بہ اخراجات برداشت کرینے پڑے تھے اس لئے انہیں یہ احساس ضرور ہوگا کہ انتخاب میں امیدوار کو بہت کچھ گرم سرد حالات سے دو چال ہونا پڑتا ہے۔میرا انداندہ ہے کہ ان کی طبیعت اس طرف مائل تھی کہ اگر آپس میں سمجھوتے کے ساتھ کسی فیصلے کی صورت پیدا ہو جائے تو یہ طریق مناسب ہو گا۔اس انتخاب میں اگر چہ امید وارہ تو میں تھالیکن پچودھری کہان خان صاحب جانتے تھے کہ میری تائید مسبقیہ ہوگی وہ میرے والد صاحب کے تعلقات اور رسوخ کی وسبہ سے ہوگی۔ضلع سیالکوٹ کے نارووال کے علاقے میں چودھری فتح دین صاحب ذیلدار مدد کا لواں ایک بار سوخ اورر باند بیر نہ میندار تھے۔انہوں نے کسی ملاقات کے دوران میں چودھری جہان خالصاحب سے کہا کہ انتخاب کی سردردی کی بجائے کیوں نہ کوئی صورت سمجھوتے کی اختیارہ کر لی جائے۔پچودھری صاحب نے فرمایا اگر آپ کے ذہن میں کوئی صورت ہو تو فرمائیں۔چودھری فتح دین صاحب نے کہا قرعہ اندازی سے فیصلہ کر لیا جائے۔چودھری جہان خالصا حب نے فرمایا مناسب ہے۔لیکن قرعہ اندازی ڈپٹی کمشنر صاحب کہیں۔چودھری فتح الدین صاحب نے جواب میں کہا کہ اس میں کوئی وقت نہیں ہونی چاہیے۔اس کے بعد چودھری فتح الدین صاحب نے والد صاحب سے کہا۔میں نے چودھری جہاں خالصاحب کو قرعہ انداندی پر رضامند کر لیا ہے۔آپ بھی رضامندی دریان والد صاحب نے فرمایا مجھے تو یہ طریق پسندیدہ معلوم نہیں ہوتا۔لیکن چونکہ آپ پچودھری یہان خاں صاحب کو اس طریق پر آمادہ کر چکے ہیں اور میرے انکار کر دینے سے آپ کی سبکی ہو گی اسلئے میں بھی رضامندی در بدنیا ہوں۔چنانچہ والد صاحب نے خاک رکوارت و فرمایا کہ چودھری جہان خان صاحب کے ساتھ ڈپٹی کمتر احد کے پاس جا کر قرعہ اندازی کر لونا میں نے جب مسٹر ہرن ڈپٹی کمشنر کے ساتھ ذکر کیا تو وہ بہت خوش ہوئے۔ہم دونوں کو اپنے بنگلے پر بلوایا دور دیا سلائی کی ڈبیہ خالی کر کے ایک میں میرے نام کا پر نہ ڈال دیا دوسری میں چودھری