تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 193 of 736

تحدیث نعمت — Page 193

۱۹۳ مسترد ہون ناشر وکیل تھے جوسر کر تائید سابق رکن مجلس انتظامیہ وائسرائے ہند کے داما در اوران دونوں کو نینٹ پلیٹر تھے بعد میں حج ہائی کورٹ مدراس ہوئے اور پھر پر لوی کونسل میں جو مقرر ہوئے ان کے ساتھ ایک مسلمان کیویں بطور جو نیر تھے حکومت کی طرف سے مسٹر اینڈ مس پبلک پراسیکوٹر پیش تھے۔مسٹر جٹس اولڈ فیلڈ نے مسٹر ایڈمس سے پوچھا تمہارا اس معاملے میں کیا موقف ہے۔مسٹر ایڈمس نے جواب دیا کہ انہیں غیر جانبدار رہنے کی ہدایت ہے۔مسٹر جسٹس اولڈ فیلڈ نے فرمایا مذہبی مسئلے کے متعلق حکومت کا غیر جانبدار لہ منا و مناسب ہے لیکن اس کیس میں ایک اہم قانونی سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔اور وہ یہ کہ سیشن بھ کی رائے کہ اگر مسئولی علیم کا فعل نیک نیتی پر مبنی ہو تو اسے مجرم نہیں قرار دیا جا سکتا ہے قابل پذیرائی ہے یا نہیں اس کے متعلق تمہارا کیا موقف ہے۔مسٹر ایڈ میں نے کہا کہ اس مسئلے کے متعلق بھی مجھے غیر جانبدار رہنے کی ہدایت ہے۔اس پر مسٹر جسٹس اولڈ فیلڈ نے کہا تو پھر تا ہے لئے تو تمہارا اجلاس میں حاضر رہنا نہ رہ بنا یا یہ ہے۔مسٹر ایڈ میں بولے تو جناب پھر رخصت ہوتا ہوں۔اور وہ تشریف لے گئے۔میں بحث کے لئے کھڑا ہوا تو مجھے خیال تھا کہ مسول علیہم کی طرف سے ابتدائی عذر پیش کیا جائے گا کہ فل بنچ کے فیصلے کے رو سے بریت کے حکم کے خلاف نگرانی قابل سماعت نہیں۔لیکن مسئول علیہم کی طرف سے کوئی ایسا عذر پیش نہ کیا گیا۔اس طرح وہ امر جیسے میں اپنے رستے میں سب سے کڑی مشکل سمجھتا تھا اللہ تعالیٰ کے فضل سے پیدا ہی نہ ہوا۔بنیادی مسئلہ زیرہ تنازعہ میرے لئے کوئی ایسا مشکل نہیں تھا۔جیسے جیسے میں اسکی وضاحت کرتا گیا سنٹر مج صاحب فرماتے گئے درست ہے معقول ہے اس حد تک تو ہماری رائے مہتا کہ نائید میں ہے اور اس طرح میری حوصلہ افزائی فرماتے رہے۔جب میں نے اس مسئلے پر بحث کرنا چاہا کہ نیک نیتی کا سوالی غیر متعلق ہے تو جج صاحب نے یہ کہہ کر روک دیا کہ یہ امر واضح ہے اور کسی بحث کا محتاج نہیں۔آمنہ ملیں مجھ سے سوال کیا کہ اگر ہماری رائے ہو کہ سشن حج کا فیصلہ غلط ہے اور قائم نہیں رہ سکتا تو نگرانی کے ضابطے کے ماتحت ہم مستغاثت علیہم کو خود سزا دینے کا اختیار نہیں رکھتے۔ہم صرف کی حکم دے سکتے ہیں کہ مقدمے کی از سر نو کا روائی ہو۔کیا تمہیں اصرارہ ہو گا کہ ان پر دوبارہ مقدمہ پہلایا جائے ؟ میں نے کہا ہماری غرض مستغاث علیہم کو سزا دلوانا نہیں۔ہمارا مقصد اپنے حقوق کی وضاحت اور حفاظت ہے۔یہ مقصد حاصل ہو جائے تو ہم مستغاث علیہم کی تعزیہ یہ مصر نہیں۔ان کے لئے یہی مشکل کافی ہے کہ مستغیث کا نکاح بہ قرار ہے اور دوسرا نکاح نا جائز ہے۔چنانچہ ہائی کورٹ نے اسی کے مطابق فیصلہ صادر کیا۔نگرانی کی بحث کے دوران میں پٹنہ ہائی کورٹ کا فیصلہ ہمارے لئے بہت تقویت کا موجب ہوا۔