تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 194 of 736

تحدیث نعمت — Page 194

۱۹۴ جماعت احمدیہ کے افراد کے متعلق ارتداد جماعت احمدیہ کے افراد کے متعلق ارتداد کا سوال کا سوال کئی عدالتوں میں اٹھایا گیا کئی بار عدالتوں میں آیا ہے۔غالباً پہلی بار یہ سوال سیالکوٹ میں چھاؤنی کی جامع مسجد کی تولیت اور امامت کے سلسلے میں عدالت کے روبرو آیا تھا۔مولوی مبارک علی صاحب کے سلسلہ احمدیہ میں بعیت ہونے پر چھاؤنی کے مسلمانوں کی طرف سے انہیں جامع مسجد کی تولیت اور امامت سے علیحدہ کرنے کیلئے دیوانی عدالت میں چارہ جوئی کی گئی۔اس وقت سیا لکوٹ میں کوئی احمدی وکیل نہیں تھا۔والد صاحب ابھی سلسلہ احمدیہ میں بیعت نہیں ہوئے تھے۔مولوی مبارک علی صاحب کی طرف سے والد صاحب کو وکیل کیا گیا۔عدالت ابتدائی میں حج لالہ دھنیت رائے صاحب تھے انہوں نے قرار دیا کہ جماعت احمدیہ کے افراد مسلمان ہیں اور دعوئی خارج کر دیا۔مدعیان نے ڈویہ تل حج کی عدالت میں اپیل دائر کی۔ڈوثیر نل ج مسٹر بیوی تھے جو بعد میں چیف کورٹ کے جج ہوئے۔انہوں نے عدالت ابتدائی کا فیصلہ بحال رکھا اور اپیل خارج کی۔مدعیان نے اس فیصلے کے خلاف چیف کورٹ میں اپیل کی۔چیف کورٹ نے قرار دیا کہ دھوئی چونکہ مولوی مبارک علی صاحب کے سلسلہ احمدیہ میں بیعت ہونے کے چھ سال کے اندر دائر نہ کیا گیا اسلئے زائد المیعاد ہے اور اس بناء پر اپیل خارج کر دی۔چونکہ چیف کورٹ نے مدعا علیہ کے عقائد کی نسبت کوئی فیصلہ نہ دیا اسلئے چیف کورٹ کا یہ فیصلہ اصل بنائے تنارعہ پر نظر نہ ہوا۔میں امرتسر میں ایک شخص بنام سراج دین کے سلسلہ احمدیہ میں بیعت ہونے پر اسکی بیوی کی طرف سے دعوئی دائرہ کیا گیا کہ میرا خاوند سلسلہ احمدیہ میں بیعت ہونے کی وجہ سے مرتد ہو گیا ہے۔اسلئے قرار دیا جائے T که میرا نکاح فسخ ہو گیا ہے۔مدعیہ کی طرف سے مولانا ابوالوفاثناء اللہ صاحب ایڈیٹر اہل حدیث مختار خاص پیروی کرتے تھے اور ڈاکٹر سیف الدین کچلو صاحب پر سٹرایٹ لا وکیل تھے۔مقدمے کی سماعت مسٹر سیمور سب مج در رتبه اول امر فسر نے کی۔میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے ارشاد پر مد علیہ کی طرف سے پیروی کے لئے امرتسر جایا کرتا تھا۔مدعیہ کے گواہان کے زمرے میں مولانا عبدالاحمد غزنوی صاحب (والد ما بعد مولانا اسمعیل غزنوی صاحب) بھی اپنے تحریری فتوی کی تصدیق کے لئے پیش ہوئے۔ان کا فتوی تھا مرزائے قادیان کا فراست و همه مریدان اور کافر انند وبر که در کفایشان شک آرداد سیم کا فراست ؟ - ظفر اللہ خاں۔جناب مولانا اگر کوئی شخص ایسے شخص کو کا فرشمار نہ کرے جو جناب مرزا صاحب کے مریدان کے کفر میں شک کرتا ہو تو اس کے حق میں کیا ارشاد ہے ؟ مولانا عبد الاحد غزنوی صاحب۔وہ بھی ویسا ہی کا فر ہے۔ظفر اللہ خاں۔اور جو اس کے گھر میں شک کرے اس کے متعلق کیا ارشاد ہے ؟