تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 137 of 736

تحدیث نعمت — Page 137

۱۳۷ بھر میں یہ اپنی قسم کا واحد رسالہ تھا اور بہت اعلیٰ معیار پر بڑی کامیابی کے ساتھ بھاری تھا۔چودھری شہاب الدین صاحب خود ایڈیٹر تھے۔اور علاوہ ادارتی عملے کے ہر صوبے کی عدالت اعلیٰ میں ایک ایک قانون پیشہ صاحب رپورٹر تھے اور ایک رپورٹر لندن میں تھے۔یہ اصحاب اپنی اپنی عدالتوں کے منتخب فیصلہ جات کی نقول حاصل کر کے اور ان کے بیڈ نوٹ تیارہ کر کے انڈین کیسنر کے دفتر میں بھیج دیتے تھے۔پنجاب چیف کورٹ (بعد میں لاہور ہائی کورٹ ) کے رپورٹر ڈاکٹر خلیفہ شجاع الدین صاحب تھے 1914 جولائی یہ میں انڈین کیسینز کے ایک شمارے کے سرورق کے ساتھ سفید کاغذ کی ایک چھیپی ہوئی مسلپ چسپاں تھی۔جس میں ایڈیٹر صاحب کی طرف سے یہ اعلان تھا کہ انہیں انڈین کیسیز کے مرتب کرنے میں ایک قانون دان اسسٹنٹ کی ضرورت ہے۔خواہشمند اصحاب ان کے ساتھ خط و کتابت کے ذریعے شرائط لے کر لیں۔مجھے خیال ہوا کہ میری طبیعت میں ابتدائی عدالتوں میں پریکٹس کے متعلق جو بے اطمینانی کا احساس ہے ممکن ہے اس سے خلاصی پانے کا یہ رستہ ہو۔چودھری شہالدین صاحب میرے والد صاحب کے دوست تھے اور مجھے بھی جانتے تھے۔میں نے ان کی خدمت میں لکھا کہ میں نے یہ اعلان پڑھا ہے۔مجھے اس کام کا کوئی تجربہ نہیں لیکن آپ مجھے جانتے ہیں اور میں اس خط کے ذریعے آپ سے مشورہ چاہتا ہوں۔اول کیا آپ کا اندازہ ہے کہ میں یہ کام کر سکتا ہوں دور ہے کیا آپ کی رائے میں اگر میں یہ کام کرنے کے قابل ہوئی تو مجھے پریکٹس چھوڑ کر یہ کام کرنا چاہیے چودھری صاحب نے کمال شفقت سے جلد ہی میرے خط کا جواب لکھا۔جس میں انہوں نے فرمایا یہ کام قابلیت بھی چاہتا ہے اور خاص مشق اور مہارت بھی چاہتا ہے میرا اندازہ ہے کہ تم یہ کام جلد سیکھ لو گے اور اچھی طرح کر لو گے۔پوری مہارت حاصل کرنے کیلئے ایک سال کی مشق درکار ہوگی۔تمہیں پریکٹس چھوڑ کر یہ کام کرنا چاہیے یا نہیں اس کے متعلق مشورہ دنیا آسان نہیں۔پریکٹس اگر بانہیں چل نکلے تو اس کا میدان وسیع ہے۔اور ایک کامیاب وکیل کیلئے بہت سے ترقی کرنے کے رستے کھل جاتے ہیں۔لیکن پریکٹس کے رستے میں بہت سے اونچ نیچ بھی ہیں۔اگر تمہاری طبیعت اس کام کو پسند کرے تو تمہارے اوسط گزارے کی ایک مستقل صورت نکل آئے گی تم نخود غور اور فکر کے بعد فیصلہ کر یو۔چودھری صاحب نے ایک اندازہ مشاہرے اور سالانہ اینزادی کا بھی لکھا۔چودھری صاحب کا جواب آنے پر میں نے والد صاحب سے ذکر کیا اور آپ سے مشورہ طلب کیا۔انہوں نے فرمایا طبیعت کی موافقت کے متعلق تو تم نخود بہتر سوچ سکتے ہو لیکن مشاہرہ کم ہے