تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 136 of 736

تحدیث نعمت — Page 136

1910 قادیان کے سالانہ جلسہ دسمبر 11ء میں میں سالا یہ قادیان گیا خلافت تا نسبید ۱۹۱۵ء میں شمولیت کے پہلے جیسے پری حضرت خلیفہ المسیح ثانی کے عرفان علم ، تفقہ فی الدین ، وسعتِ نظر اور فکر کی گہرائی موجب حیرت ہوئی تھی۔اس دوسرے جلسے پر به نقش اور بھی گہرا ہوگیا اور میں اس وثوق کے ساتھ لوٹا کہ سلسلہ حقہ کی حفاظت ، جماعت کی بہبودی اور ترقی ، اسلام کا متقبل مسلمانان عالم کے حقوق کی نگہداشت ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کی بہ تری اور کلمہ اللہ کا اعلاء سب اس بطل جلیل کے ہاتھوں میں محفوظ ہیں، ایدہ اللہ بصرہ العزیز، ہمارا فرض اسکی کامل اطاعت اور اسکی آوانہ پر بیک کہنا اور محکم کو بجالانا ہے۔وباللہ التوفیق سالانہ جلسے کے بیشمار فواید یں بہت بڑے معاشرتی فوائد بھی شامل ہیں۔بہت سے اسلامی شعارہ اور اقدار ہو نظر سے ارتجیل ہو گئے تھے اور جن پر سلمانان ہند کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں تعامل نظر نہیں آتا تھا پھر سے تازہ ہونا شروع ہو گئے اور ان کا نمونہ قائم ہونا شروع ہو گیا۔فالحمد للہ۔انڈین کیسیز کی اسسٹنٹ ایڈیٹری | شاید کے آخر میں میری پر کیس کامپل سال ختم ہوگیا پریکٹس کے لحاظ سے تو میرے لئے کوئی وجہ بے اطمینانی کی نہیں تھی۔لیکن اپنی زندگی کو اس سانچے میں ڈھالنے کے متعلق مجھے اطمینان نہیں تھا۔ادھر میرے ذہن میں کوئی اور منصوبہ بھی نہیں تھا۔میں یہ تو محسوس کرتا تھا کہ مجھے اس طریز زندگی میں تبدیلی کی خواہش ہے لیکن اس کے بادل کے طور یر میں کیا چاہتا ہوں یہ میرے ذہن میں ابھی واضح طور پر نہیں آیا تھا۔والد صاحب نے سکول کی تعلیم در نیکر سکول میں مکمل کی تھی۔مختاری اور وکالت کے امتحان بھی الہ درد میں پاس کئے تھے۔ورنہ اس دوران میں انہوں نے کچھ واقفیت انگریزی سے پیدا کی تھی لیکن انہیں اپنے انگریزی کے لفظ کہ پورا اعتماد نہیں تھا اسلئے انہوں نے انگریزی بولنے کی کبھی مشتق نہ کی۔وکالت کا کام شروع کرنے کے بعد انہیں انگریزی کے ساتھ زیادہ سابقہ پڑنے لگا اور اس تقاضے کو انہوں نے اس حدتک تھے پورا کیا کہ انہوں نے انگریزی پنجاب ریکارڈ منگوانا شروع کیا جس میں چیف کورٹ کے نظائر اور چیف کورٹ سے جو اپیل پر لوری کونسل میں جاتے تھے ان کے فیصلہ جات پچھپ کرث لع ہوتے تھے۔بعد میں جب چودھری شہاب الدین صاحب نے کہ میل لا جنرل سے قدم آگے بڑھا کہ انڈین کیسنر بھاری کیا تو والد صاحب نے اسے بھی منگوانا شروع کیا۔انڈین کیر میں ملک مھبر کی اعلیٰ عدالتوں کے دیوانی اور فو بعداری فیصلے اور پر لوی کونسل کے فیصلے تو ہندوستان سے تعلق رکھتے ہوں سب چھیتے تھے۔سال عمر میں انڈین کینسر کی چھ ضخیم جلدیں شائع ہوتی تھیں۔اپنے ابتدائی سالوں میں ہندوستان