تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 93 of 736

تحدیث نعمت — Page 93

۹۳ کے رہنے والے۔بھی نظر آئے۔ایک ان میں سے کو سچو ان تھا۔دو مین شائید اپنی ضروریات خرید نے شہر میں آئے ہوئے تھے۔ہمارا ریل کا سفر لمبا تھا لیکن سفر کے دوران میں ہمیں ملک کے دیکھنے اور لوگوں کے طور طریق ملاحظہ کرنے کا موقعہ مل گیا۔ان دنوں فنلینڈ میں ریل کے انجنوں میں زیادہ تریکی بطور ایندھن استعمال ہوتی تھی۔کوٹلہ بہت کم استعمال کیا جاتا تھا۔فائر مین کا کام کرنے کیلئے کسی رضا کار مسافر کو انجن میں سوار کر لیا جاتا تھا۔اسے کرا یہ بچ جاتا تھا۔اور ریل کے محکمے کو اس کی مزدوری بچ جاتی تھی۔اس سفر میں ریل کے ساتھ کھانے کی گاڑی نہیں تھی۔لیکن کھانے کے اوقات پر سیل کسی ایسے سٹیشن پہ رک جاتی تھی جہاں کھانا میسر ہو تا تھا۔مسافر آرام سے کھانا کھالیتے تو ریل پھر روانہ ہو جاتی ان اسٹیشنوں پر کھا عمدہ ملتا رہا اور قیمت سب جگہ نہایت واجبی تھی ہم دوسرے درجے میں سفر کر رہے تھے۔ہمارے ساتھ کے ڈبے میں سفر کر نیوالے ایک صاحب ہمیں یعنی دیکھ کر جہاں گاڑی کھڑی ہوتی ہمارے ساتھ ہو جاتے اور اگر بچہ انگریزی نہیں جانتے تھے لیکن ہماری ہر ضرورت کا قیاس کر کے اسے پورا کرنے میں ہماری مرد کرتے۔کھانے کے کمرے میں بھی ہمارے ساتھ یہ ہتے کھانے کے انتخاب اور قیمت ادا کرینے میں ہماری مدد کرتے اور ہرطرح سے ہمارے آرام کا خیال رکھتے۔فجزاہ اللہ احسن الجزاء - شام کے کھانے کیلئے جب گاڑی کھڑی ہوئی اور ہم کھانا کھا کر اپنے کمرہ ہیں واپس آئے تو ہم نے دیکھا کہ ہمارے کمرے کے نچلے اور اوپر والے دونوں بنچوں پر بستر لگا دیئے گئے ہیں " جس سے ہمیں بہت اطمینان ہوا۔ہمارا اندازہ تھا کہ ہمیں رات بیٹھ کر یا بغیر ستر کے گدوں پہ لیٹے گزارنا ہوگی۔معلوم ہوا کہ بغیر زائد کرایہ وصول کئے رات کے سفر کے لئے بستر مہیا کر دیا جاتا ہے۔یہ تجربہ مجھے صرف فنلینڈ میں ہوا۔بہتر بہت صاف ستھرے تھے اور ہر ضروری چیز مہیا تھی۔ہماری رات نہایت آرام سے کئی۔فالحمد للہ ہمارا یہ سفر بڑا دلچسپ رہا اور ہم بخیریت لندن واپس آگئے۔متر می | اس سال گرمیوں کے شروع میں میرے ہم جماعت مسٹر محمد حسنی تحریک کی تھی کہ میں ان کے ساتھ نمبرسم لان کر سینٹ کیو گارڈ نہ میں رہائش منتقل کر لوں۔مجھے اس میں کچھ تامل تھا۔وہ عالی تو مجھے بہت پسند تھا اور میں کئی دفعہ اس باغ کی سیر کے لئے جاتا بھی رہا تھا۔گرمیوں کے موسم میں تو اکثر جانے کا اتفاق ہو تا تھا۔لیکن مسٹر فائنڈن کے ہاں میری رہائش کا انتظام لتسلی بخش تھا اور میری طبیعت بے سبب رہائش تبدیل کرنے پر مائل نہ تھی میسٹر محمد حسن نے اصرار کیا کہ ایک شام ہمارے ہاں کھانے پر تو آؤ۔میں گیا تو مکان مجھے بہت پسند آیا۔کھانا بھی بہت عمدہ تھا مکان کی مالکہ مسری بہت تواضع سے پیش آئیں۔مکان ان کی اپنی ملکیت تھا۔اور ساتھ کے مکان کی بھی دہی مالک تحقیق