تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 89 of 736

تحدیث نعمت — Page 89

"۔فیصدی تک کشتیاں تلف ہو جاتی ہیں سنتے ہی کہا پھر تو اس ہم پہ جانا خالص دیوانگی ہے میں تو ہر گز نہیں جاؤں گا اور تمہیں بھی نہیں جانا چاہیے۔لیکن اگر تمہیں اصرار ہے تو تم جاؤ اور میری واپسی کا کوئی اور انتظام کرو۔ہم ریلوے اسٹیشن پر گئے تا کہ ان کے واپسی کے سفر کا کوئی اور راستہ معلوم کریں لیکن سٹیشن کی عمارت پر فقل لگا ہوا تھا۔یہ بات بھی ان کی مسنی کا موجب ہوئی۔ایک ملازم اسٹیشن کی عمارت کے سامنے جھاڑو دے رہا تھا۔وہ ہماری بات نہ سمجھ سکا۔ہم اس کی بات نہیں سمجھتے تھے۔صرف اشاروں اور چند جر من الفاظ کی مدد سے اتنا معلوم ہوسکا کہ دن بھر میں ایک ہی گاڑی جس پر ہم آئے تھے یہاں تک آتی ہے اور واپس چلی جاتی ہے۔ناچار ہم ہوٹل واپس چلے آئے اور سردار صامو نے کہا اچھا بھائی اب جو قسمت ہے۔SHOOTING THE RAPIDS دوسری صبح ہم چھ بجے جھیل کے جہانہ پر سوار ہوئے اور دس بجے دریائے الیا کے منع پر پہنچے جہاز نے جھیل کے درمیان ہی لنگہ ڈال دیا اور ایک کشتی جو جہانہ کے انتظارہ میں تھی جہانہ کے ساتھ آلگی - اندا نہ اچارفٹ چوڑی اور میں فٹ لمبی ہوگی نیشتی کے ایک سرے پر ملاح بیٹھا تھا۔دوسرے پر ایک گیارہ بارہ سال کا لڑکا جو اس کا بیٹا با شاگرد تھا۔اور اس کا معاون بھی تھا۔مسافرود درود کی قطار میں کشتی میں بیٹھ گئے ہمارے منہ کشتی کے اس سرے کی طرف تھے۔جہاں لڑکا بیٹھا تھا۔ہمارے بیگ ہمارے پاؤں میں لکھدیے گئے۔اور ملاح نے ایک چھوٹے سے چھوٹی مد سے کشتی کو پانی کی اس درد کی طرف لیجانا شروع کیا ہو تجھیل میں سے ایک جانب بہتی نظر آرہی تھی آہستہ آہستہ یہ روتیز ہوتی گئی اور کشتی نے اس میں تیزی سے بہنا شروع کر دیا۔چار پانچ منٹ نہ گذرے ہوں گے کہ سامنے ایک پتھر کا بلند کٹہرا نظر آنے لگا۔جس کی طرف کشتی تیزی سے ہر خطہ رہی تھی۔اس کٹہرے کے اندر جو بھلا تھے ان میں سے پانی بڑی سرعت کے ساتھ جھیل سے خارج ہو رہا تھا۔سب سے بڑے خلا کی چوڑائی پانچ چھ فٹ سے زیاد نہ تھی۔اس میں سے کشتی تیر کی طرح نکل کر دریا میں داخل ہوگئی۔یہ پہلے RAPID کی ابتدا تھی جو چھ میل لمبا تھا۔پانی کی رفتار نہایت تیز تھی اور کشتی اس کی نا ہموار سطح پر رقص کرتی جارہی تھی۔دریا کے کنارے اونچے تھے اور تیز رفتار سے مخالف سمت بھاگتے نظر آتے تھے۔ایسا معلوم ہوتا و یا کشتی تو پانی کی سطح پر ایک ہی مقام پر رقصاں ہے اور دریا کے کنارے بھاگتے جار ہے ہیں۔یہ چھ میل کا فاصلہ چند منٹوں میں طے ہو گیا۔کشتی دریا کے ہموار حصے میں پہنچ گئی۔انک منظر وخانی کشتی نے رہتی پھینک دی جسے ہمارے ملاح نے کشتی کے سرے سے باندھ لیا اور درخانی کشتی