تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 81 of 736

تحدیث نعمت — Page 81

پیچھے ایک صاحب مجھے کچھ پڑھ یا لکھ رہے تھے۔ہم میں سے کسی نے کھڑکی کے شیشے پر انگلیوں سے ان صاحب کو متوجہ کیا اور درہ باہر آئے۔چہرے اور لباس سے تعلیم یافتہ معلوم ہوتے تھے۔انگریزی تو نہیں جانتے تھے لیکن ہم نے ان پر اپنی مشکل واضح کردی۔وہ ہنسے ، سر بلایا ، اندر واپس جا کر اپنی ٹوپی اور چھڑی لے آئے اور ہمارے ساتھ ہو لئے۔ہم لوگ مقام انفصال پر جہانہ کے سے چند منٹ پہلے ہی پہنچ گئے۔جہاز کے پہنچنے پر جہانہ کے عملے نے اس مشفق رہنما کی میز وغیرہ رہنما سے تواضع کی اور فریقین خوشی خوشی ایک دوسرے سے رخصت ہوئے۔سٹاک ہولم اس موقعہ پر میں سٹاک ہولم صرف دو دن ہی ٹھہر سکا۔بہت خوشنماشہر ہے اور شمال کا نہیں کہلاتا ہے۔ارد گرد کے جزیروں کی سیر بہت دلچسپ رہتی ہے۔میں جہانہ پر سٹائٹسجو بیڈن گیا۔وہائی گرینڈ ہوٹل میں لنچ کھایا اور کلی کی ریل میں واپس آیا۔شام کوشکان سین گیا تو یہاں کا نیشنل پارک ہے۔اس کے ایک حصے میں یہاں کے قومی لباس کی ایک قسم کی نمائش بھی ہوتی ہے۔ایک بعد کے موقعہ پر میں آپ کا یونیورسٹی دیکھنے گیا۔وہاں کے عربی کے پرو وغیر سے طلاقات ہوئی۔ٹیم پر گیا اور جہاز سے واپس آیا۔یہاں کا محل اور اس کا باغ سیر کے مقامات ہیں۔یہاں ں کے گر جائیں ڈیزری کی قبر ہے۔جو موجودہ شاہی خاندان کے مورث اعلی فرانسیسی جنرل بہ نا ڈوٹ کی اہلیہ تھیں۔انیسویں صدی عیسوی کے شروع میں جب سویڈن کا تخت عالی ہوا اور ملک کو ایک بادشاہ کی ضرورت ہوئی تو نگہ انتخاب نیولین کے ایک حمر نیل سمرنا روٹ پر پٹڑی جو فرانس کے مارشل بھی تھے۔جب سویڈش وفد نے سویڈن کا تخت جنرل بر نا ڈوٹ کو پیش کیا تو انہوں نے نیولین سے اس پیشکش کے متعلق استصواب کیا۔نپولین نے انہیں قبول کرنے سے منع تو نہ کیا لیکن اتنا ظہار ضرور کر دیا کہ ان کے نزدیک فرانس کے ایک مارشل کیلئے سویڈن کا تخت کوئی بڑا اعزانہ نہیں سب باوجود اس کے جنرل بر ناڈوٹ نے سویڈش پیشکش منظور کر لی تو نپولین آزردہ ہوا۔چند سال بعد نپولین تو سینٹ سہیلیا میں عمر بھر کیلئے نظر بند کر دیا گیا اور اس کے بھائیوں کو اس کے عطا کر تخت جلدی میں چھوڑنے پڑے۔لیکن جنرل بر ناڈوٹ کا پڑپوتا آج بھی سویڈن کا بادشاہ ہے۔ڈینی سری جنرل یہ نا ڈورٹ کی رفیقہ حیات تھیں۔کہا جاتا ہے کہ اس کی بہین اور غالباً وہ خود بھی ایک وقت پولین کی منظور نظر رہی تھیں۔جنرل پر ناڈوٹ کے ساتھ شادی ہو جانے کے بعد ان کے متعلق اس قسم کا کوئی شبہ نہیں کیا گیا۔جنرل بر ناڈوٹ کے سویڈن کا بادشاہ بن جانیکے بعد وہ زیادہ عرصہ فرانس ہی میں رہیں۔آخر عمر میں کچھ عرصہ سویڈن میں مقیم ہوئیں ورنہ تھوڑے عرصہ کیلئے آتیں اور واپس چلی جائیں