تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 82 of 736

تحدیث نعمت — Page 82

AY دہ خاوند کی تاجپوشی میں شریک نہیں تھیں اسلئے کبھی سویڈن کی ملکہ نہ کہلائیں۔قبر کے تعویذ پر صرف ایک لفظ ڈیز سے رہی سہی سنہری حروف میں کندہ ہے۔سٹاک ہولم پہنچنے کے دوسرے دن صبح کے وقت میں متعلقہ جہانہی کمپنی کے دفتر گیا تا کہ مہیلنگ فورس جانیوالے جہانہ پر کین کا بندوبست ہو جائے لیکن نہ ہو سکا۔اسدن شام کے چھ بجھے بجھان کی روانگی تھی۔مسافروں کو ایک گھنٹہ قبل جہانہ پر پہنچنے کی ہدایت تھی۔بہانہ پر پہنچ کر معلوم ہوا کہ جن مسافروں کو کیبن میں جگہ نہیں مل سکی ان کے لئے کھانے کے سیلون میں بستر بنا دیے جائیں گے مجھے بتایا گیا کہ میرا لہتر کھانے کے سیلون میں ہوگا سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے جہانہ پر ایک روسی صابو سے واقفیت ہوگئی جو پیٹرزبرگ (حال لینن گراڈ میں جواہرات کی تجارت کرتے تھے۔ان کا نام نکولا و سالیوچ ڈیگلنگ تھا جب انہیں معلوم ہوا کہ اس سفرمیں میرا اور میرے ایک دوست کا ارادہ پیٹر نہ برگ جانے کا بھی ہے تو مجھے اپنا پتہ دیا اور تاکید کی کہ ان سے ضرور ملوں۔جب سردار محمد اکبر خان اور میں میٹر ریگ گئے تو ان سے ملے۔انہوں نے ہمیں اپنے ہاں کھانے پر بلایا۔کھانا ہمارے مزاج کے بالکل موافق تھا سردار صاحب نے کہا آج تین سال بعد گوشت میں کر لیے پیکے کھاتے ہیں۔وطن یاد آگیا۔کھانے کے بعد ہمارے میزبان ہمیں موٹر میں سیر کے لئے لے گئے۔دریائی بہانہ پر دریائے گنوا کے جنہیوں کی سیر کرائی۔بڑی تواضع اور شفقت سے پیش آئے۔میں دہی جہانہ پر کئی واقفیت تھی۔ہم دونوں طالع قیم تھے ہمارے ساتھ انہیں کوئی غرض نہ تھی اور نہ انہیں تم سے کسی قسم کا نفع پہنچ سکتا تھا۔وہ ایک معمر خوشحال نا جہ تھے۔ہمارے ساتھ مسافر نوازی کا سلوک ان کی شرافت اور اعلیٰ خلق کی وجہ سے تھا۔فجزاللہ پچاس سال بعد جب میں اقوام متحدہ کی اسمبلی کے صدر کی حیثیت میں روس کے وزیر خارجہ مسٹر گرومیکو کی دعوت پہ روس گیا تو گولین گراڈ ر سابق پیٹرز برگ میں میرا قیام صرف ایک دن ریا پھر بھی میں اس شریف جو ہری نکولا و سالیوں کی شرافت، تواضع اور مہمان نوازی کی یاد میں نمبر ۲۶ نوسکی پر اسپیکٹ یہاں پاسال پہلے ان کا کاروبارہ تھاکو پھر دیکھے آیا۔ہیلینگ فورس (فنلینڈ) | جہاز سیلینگ فورس شام کے چھ بجے پہنچا۔سورج ابھی نصف النہا سے کچھ بی نیچے معلوم ہوتا تھا۔ان علاقوں میں گرمیوں میں دن بہت لمبا ہوتا ہے اور جنوبی فنلینڈ میں بھی سورج سولہ سے منتیں گھنٹے چمکتا ہے۔میں نے ہوٹل فیمینیا میں ایک کمرہ لے لیا۔دوسرے دن صبح سیر کیلئے نکلا اسپلینڈ سے ہوتے ہوئے اندرونی بندر گاہ کی طرف گیا مارکیٹ کی رونق دیکھی جہاں کھلی ہوا میں سبزی اور دیہات میں پیدا ہونے والی خوردنی اشیاء کی خرید و فروخت ہو رہی تھی