تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 80 of 736

تحدیث نعمت — Page 80

1۔نے دو تین گھنٹوں میں تم آبشار کے نیچے پہنچ گئے۔بہانہ یہاں سے Locks کے ایک لمبے سلسلے میں سے گذرہ کر کشادہ سے اوپر کے حصے میں پہنچتا تھا۔غالباً اٹھارہ یا بیس LOCKS ہوں گے اور جہانہ کو ان سے گذرنے میں کوئی ڈیڑھ گھنٹہ صرف ہوتا تھا۔اس عرصے میں مسافر جہانہ سے انتہ کہ آبشارہ کا نظارہ کرتے اور جہانہ کے Locks سے گذرنے کے عمل کا مشاہدہ کرتے۔اور ساتھ ہی پیدل بلندی کی طرف پڑھتے بھی جاتے۔آبشار کے پانی کے گرنے کی طاقت کو بھلی میں بدلنے کا کار خانہ بھی دریا کی ایک جانب تھا۔میں نے سنا ہے کہ اب اس کا رہ خانے کو اتنا وسیع کر دیا گیا ہے کہ دریا کا بہت کم پانی آبشار میں سے ہو کر گرتا ہے۔گویا آبشاراب غائب ہو گیا ہے۔صنعت اور انہیں کئے مقابلے میں قدرتی منظر اور قدرت کی بو قلمونیاں میں پا ہو رہی ہیں۔جب جہانہ آبشار کے اوپر پہنچ گیا تو ہم پھر سوارہ ہو گئے۔نظارہ دریا کے نچلے حصے کی نیت زیاده د لغریب معلوم ہونے لگا۔ایک وجہ یہ بھی تھی کہ سورج کے غروب ہونے کا وقت قریب آریا تھا اور قدرت کے چہرے پر کچھا فسردگی سی چھا رہی تھی۔شام کے کھانے کے بعد کچھ اندھیرا ہونے لگا لیکن رات چاندنی تھی۔دریا کے قریب شہر تو الگ کوئی بستی یا آبادی بھی نہیں تھی۔بالکل خاموشی کا سماں تھا۔بہانہ ایک ایسے مقام پر پنچا جہاں دریا ایک چکمہ کاٹتا تھا۔کپتان نے کہا کہ اگر تم لوگ چاندنی میں سیر کا لطف اٹھانا چا ہو تو یہاں اتر کر پیدل سیر کرتے ہوئے چکر کے آخر میں پھر جہانہ کو آملو۔ہم سب نے ان کی تجویزہ کے ساتھ الفاق کیا اور استہ کہ چل پڑے۔باتوں میں مشغول ہم دور دو تین تین کی ٹولیوں میں آگے پیچھے پک ڈنڈیوں پر جارہے تھے کوئی سٹرک تو تھی نہیں۔جہانہ چکہ کاٹنے میں ہم سے دُور ہوتا گیا اور جہانہ کی سرچ لائیٹ ہماری نظروں سے اوجھل ہو گئی۔چاندنی کا سماں تو بیشک دلفریب تھا لیکن ہم میں سے کسی کو پختہ طور پر معلوم نہیں تھا کہ کونسی پگڈنڈی ہیں اس مقام تک پہنچائے گی جہاں دریا کا چکر ختم ہوتا ہے۔ہمیں کچھ اندیشہ ہو نے لگا۔کہ اگر ہم زیادہ دور ہو گئے تو جہانہ پر انہیں پہنچنے میں شاید کچھ مشکل پیش آئے۔گو ہمیں یہ تواطمینا تا کہ اگر موت پر مقرہ مقام پر پہنچے تو ان کی بیٹی ماری رہنمائی کے لئے بھائی جائے گی ور جہانہ سرچ لائیٹ بھی ارد گرد گھمائی جائے گی۔پھر بھی ہم نے مناسب سمجھا کہ ہمیں صحیح راستہ معلوم کرنے کی کوشش کرنا چاہئے۔اس کی ایک ہی صورت تھی کہ اگر کسی مکان یا جھونپڑے کا سراغ مل جائے تو ہم راستہ دریافت کر لیں۔تھوڑی دیر بعد ہمیں ایک روشنی نظر آئی اور ہم نے اسکی طرف پڑھنا شرودی کیا۔چند منٹوں میں ہم ایک فارم ہاؤس پر پہنچ گئے بیس کی ایک کھڑکی سے روشنی اگر ہی تھی کھڑکی کے را