تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 699 of 736

تحدیث نعمت — Page 699

499 شروع ہوگئی۔اور گاؤں پہنچے کے چند دن بعد سی تکلیف کے نتیجےمیں ان کی وفات ہوگئی میرے دادا جان کو بھی و ترانوالہ پہنچے تک سچیش کی شکایت شروع ہوگئی اور وہ چند ماہ اس تکلیف میں مبتلا ہے۔اس کے بعد فضل اللہ افاقہ ہوگیا۔لیکن سال بھر بعد انہیں پھر پچیش اور تپ کی تکلیف شروع ہوگئی اور چند دن کی بیماری کے بعد فوت ہوگئے۔غفر الله له جعل الجنة العليا مثواه۔میرے والد صاحب مجھ سے بہت تخفیف حالت میں واپس وطن پہنچے جہاز میں سفر کی صعوبت کے علاوہ بحری سفر بھی ان کیلئے تکلیف کا باعث ہوا۔جاتے اور آتے دونوں وقت موسمی ہواؤں کا نہ مانہ تھا جسکی وجہ سے سمندر میں ناظم ہوتا ہے اور اکثر طبائع کیلئے جھانہ کی حرکت بہت تکلیف اور پریشانی کا موجب ہوتی ہے۔جناب والد صاحب محجری سفر کا اثر حمد مرض الحجر میں مبتدار ہے۔وطن واپسی پر صحت اور تندرستی بفضل اللہ کس قدر بحال ہوئی لیکن ایک سال بعد اء کے ستمبرمیں کشمیر اتے ہوئے کو مری کے مقام پر جاری ہوگیا اور دن بڑی تکلیف میں نے لال لال نے رحم فرمایا در طبیعت پھر کال ہوگئی۔الحمدللہ۔اگست تار میں وسیع ذات المجنب کا حل ہوا۔باوجود احتیاط اور مناسب علاج کے تکلیف بڑھتی گی آخه ۲ ستمبر کی شام کومغرب کے بعد جب جمعرات کا دن گذرنے کے بعدجمہ کے دن کا آغاز مو اسی تھالا ہور میں ناک کے مکان پر والدہ صاحبہ کی رویا کے عین مطابق پورے ہوش میں اور کامل بشاشت کے ساتھ جان نا تو ان جان آفرین کے سپرد کردی۔انا للہ وانا اليه راجعون - غفر الله له وجعل الجنة العليا مثواه - عالمی عدالت کی صدارت عالمی عدالت کے پندرہ جو میں سے پانچ کی ارسال میعاد ہر تیسرے سال در کے لئے میرا انتخاب فروری کو ختم ہوتی ہے۔اس میعاد کے نختم ہونے سے قبل اقوام متحدہ میں ان پانچے جھوں کی نشستیں پر کرنے کیلئے انتخاب ہوتا ہے۔جب نئے جج اپنے فرائض اور فروری سے سنبھال سکتے ہیں تو عدالت کا پہلا کام صدر کا انتخاب ہوتا ہے۔صدارت کے عہد کی میعاد تین سال ہے۔یہ انتخاب خفیہ رائے شماری کے ذریعے عمل میں آنا ہے۔نشہ میں اس انتخاب کیلئے دار فروری کا دن تجویز ہوا۔صدارت کیلئے دو اور جوں کے ساتھ میرا نام بھی تجویز ہوا تھا۔انتخاب کیلئے آٹھ آراء کی تائید ضروری ہے۔انتخاب کی کاروائی دو دن ہوتی رہی۔آخر کار مطلوبہ کثرت سے زائد آراء میرے حق میں پائی گئی اور بعض اللہ میں صدرمنتخب ہوا۔فالحمد للہ میں ایک ضعیف عاجز پر تقصیر انسان ہوں۔اپنے اند کوئی خوبی نہیں دیکھتا۔میرے دوست ہے دونوں رفیق جن کے اسمائے گرامی انتخاب کی کاروائی میں سامنے آتے رہے کئی اعتباہ سے مجد پر فوقیت رکھتے ہیں۔اللہ تبارک تعالی اپنی مصلحتوں کو خودہی جانتا ہے کوئی اور ان کا احاطہ نہیں کرسکتا وہ فضل کرنا چاہے تو کوئی روک نہیں بن سکتا اور اگر اس کا فضل شامل حال نہ ہو تو کوئی کشش کوئی نذیر کوئی حیلہ کارگر نہیں ہوسکا اس وقت تک اس عدالت کے آٹھ صدر رہ چکے ہیں۔دولاطینی امریکن ایک مالی امریکن چار اور ہین۔ایک آسٹریلین میں ہلا الیشیائی صدر ہوں۔اور ایشیائی بھی دو جو مغربی تہذیب اور ثقافت کی اقدار سے بیزار ہے اور جس کی یہ بیزاری اس کے عمل سے ظاہر ہے۔لیکن اگر اس کی مشیت نے ایک نا کارہ ہی کا انتخاب چاہا تو۔