تحدیث نعمت — Page 49
وسم بیسی دشت خواب میں مجھ پر طاری ہوئی تھی ویسی ہی اس منظر کے سامنے آنے پر میں نے محسوس کی اور میں اسے برداشت نہ کر سکا اور اسی گھبراہٹ میں اٹھ کر چلا آیا۔فرمایا پہلا خواب میں نے ان ایام میں دیکھا تھا جب حضرت صاحب (حضرت مسیح موعود علیہ السلام ) آخری بارہ لاہور تشریف لائے تھے اور ہمارے مکانات واقعہ احمد یہ بلڈنگس می ٹھہرے ہوئے تھے میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اور مولوی محمد علی صاحب اور تین چار اور افراد اگر خواجہ صاد نے کوئی نام لئے تو مجھے وہ یاد نہیں رہے گرفتار کرلئے گئے ہیں اور ہم سے کہا گیا کہ تم نے بغاوت کی ہے تمہیں بادشاہ کے حضور پیش کیا جائے گا۔چنانچہ ہمیں پیش کیا گیا۔کمرہ ایسا تھا جیسا لا ہور چیف کورٹ میں فرسٹ پنچ کے اجلاس کا کمرہ ہے۔میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ چو کو چھتری (خواجہ صاحب نے لفظ CANOPY کہا تھا) کے نیچے جہاں مجھ بیٹھتے ہیں تخت بچھا ہوا ہے اور اس پر مولوی صاحب (حضرت مولانا نور الدین صاحب تشریف فرما ہیں۔انہوں نے ہمیں مخاطب کر کے کہا، تم نے ہمارے خلاف بغاوت کی ہے بتاؤ تمہیں کیا سزادی جائے ؟ میں نے کہا اب آپ کا راج ہے آپ جو چاہیں حکم دیں۔مولوی صاحب نے کہا ہم تمہیں ملک بدر کرتے ہیں۔میں نے خواب حضرت صاحب ( حضرت مسیح موعود علیہ اسلام ) کو سنایا۔جس خواب میں انسان کی اپنی موت کی طرف اشارہ ہو بعض دفعہ اس کی تغییر ذہن میں نہیں آتی کریہ خواجہ صاحب کے الفاظ تھے معلوم نہیں خواجہ صاحب نے یہ قیاس کیوں نہ کیا کہ حضور علیہ اسلام تعبیر تو خوب سمجھ گئے ہوں گے لیکن مصلحتاً بیان کرنا مناسب خیال نہ فرمایا ، آپ نے کہا مبارک ہو شاہی قیدی ہونا کوئی بہ می بات نہیں۔اس کے بعد میں مولوی صاحب کے پاس گیا اور انہیں وہ خواب سنایا۔انہوں نے نہ کچھ دیر تو سر جھکائے رکھا اور پھر سراٹھا کر کہا۔کسی سے کہنا نہیں۔اس کے دو چار دن بعد حضرت صاحب کی وفات ہو گئی۔میں مولوی صاحب کے پاس گیا اور کہا حضرت میرا خواب پورا ہو گیا، اور اپنے ہاتھ کو بڑھا کہ کہا کہ بیعت بیجئے۔مولوی صاحہ نے کہا نہیں۔نہیں انتظار کرو۔قادیان چلو۔ام المومنین سے پوچھو۔نواب محمد علی سے پوچھو۔محمود سے پوچھو۔ناصر نواب سے پوچھو۔۔دوسرا خواب میں نے کچھ عرصہ بعد دیکھا کہ ہم پھر کڑے گئے ہیں اور مولوی صاحب کے سامنے پیش کئے گئے ہیں۔مولوی صاحب نے کہا تم نے پھر ہمارے خلاف بغاوت کی ہے ہم حکم دیتے ہیں کہ سر قلم کیا جائے۔چنانچہ مں نے دیکھا کہ میں مقتل میں لے جایا گیا ہوں اور عین اسی طرح جیسے ہیں فلم کے منظر مں ایکس کے ساتھ ہوا میں نے اپنا سر بلاک پر رکھ دیا اور جلاد نے کلہاڑے کا دارہ میری گردن پر کیا جس سے مجھ پر سخت دہشت طاری ہوئی اور میری نیند کھل گئی۔ویسی ہی حالت میری ہوئی۔