تحدیث نعمت — Page 48
مسم روڈ نشریف کے گئے مسلم انڈیا اور اسلامک ریویو جاری کیا اور جب ورکنگ مسجد کا انتظام آپ کے سپرد کرنے کا فیصلہ ہو گیا تو آپ نے سر سالا بیجنگ میموریل ہاؤس میں رہائش اختیار کر لی اور دو کنگ مشن کا قیام عمل میں آیا۔جمعہ کی نماز کے لئے لندن سے آنے جانے میں چونکہ وقت صرف ہوتا تھا اسلئے جمعہ کی نماز کیلئے ٹوٹنگ کا میں ایک بال کرائے پر لینے کا بھی انتظام ہو گیا۔خواجہ کمال الدین صاحب کے سارہ برن ہارٹ ایک مشہور فرانسیسی ایکٹرس تھی اور گو خاصی بیان کردہ ان کے در خواب معمر ہو چکی تھی لیکن اپنے فن کے لحاظ سے بڑی شہرت رکھتی تھی۔ملکہ اول ال مسجد کے ڈرامے میں اس نے ملکہ کا پارٹ ادا کیا۔اس ڈرامے کی فلم بھی تیار کی گئی۔اس فلم کی بھی بہت شہرت ہوئی۔خواجہ صاحب بھی اسی مکان میں اقامت پذیہ تھے جہاں میں رہتا تھا کہ ایک دن ہمارے گھر میں ذکر ہوا کہ یہ فلم ایک قریب کے سینما میں دکھائی جار ہی ہے اور قابل دید ہے۔خواجہ صاب نے اسے دیکھنے کا شوق ظاہر کیا اور ہم دونوں اسے دیکھنے گئے سردیوں کا موسم تھا۔اور وہ شام خاصی سرد تھی۔میں تو اپنا اور کوٹ پہن کر گیا لیکن خواجہ صاحبنے اور کوٹ نہ پہنا۔فرمایا کرتے تھے مجھے یہاں کی سردی تکلیف دہ محسوس نہیں ہوتی۔فلم کے ایک حصہ میں وہ منظر آنا تھا جس میں ارل آن ایکس تو آئر لینڈ کا وائسرائے رہ چکا تھا اور وہاں سے واپسی پر بغاوت کے الزام میں مانوز ہوکر موت کا سزا دارد قرار دیا گیا تھا کواس ا سر قلم کرنے کیلئے مقتل میں لایا جاتا ہے۔جب یہ منظر سامنے آیا اور ارل آف الیکس نے اپنا سر لاک پر رکھ دیا اور جلانے اپنا کاٹا اٹھایات خواجہ قصاب کی طبیعت لیکا یک سخت پریشان ہو گئیاور مجھ سے یہ کہ کر کہ اٹھو اٹھو فورا چون سراسیمگی میں لانول پڑھتے اور استغفار کرتے باہر کو چل دیے میں بھی ان کی حالت دیکھ کر سخت پریشان ہوا اور ھر اس میں ان کے بجھے بجھے باہر آگیا۔مجھے یہ اندیشہ ہو کہ خواجہ صاحب کو سردی لگ گئی ہے اور فوراً تکلیف بڑھ گئی ہے۔یہ سینما ہم سمتھ براڈوے کے پاس ہی تھا۔ہم باڑے سے گزر کر بجائے اپنے گھر کی طرف جانے کے ہمیر سمتھ برنج روڈ پر ہوئے اور دریا کے پل کی طرف چلا ہیے۔خواجہ صاحب بہت تیزی سے چل رہے تھے اور استغفار اور عادوں میں مصروف تھے اسلئے میں کچھ پوچھنے کی جرات بھی نہیں کرسکتا تھا۔پل پر پہنچ پل کر ان کی طبیعت میں کچھ سکون ہوا تو میں نے دریافت کیا کہ کیا آپ کو کچھ سردی محسوس ہو رہی ہے فرمایا نہیں مجھے تو سردی کا احساس ہی نہیں ہوتا۔اس وقت بھی پسینہ آرہا ہے۔اسلئے میں کھلی ہوا کی طرف نکل آیا ہوں تھوڑی دور جا کر خواجہ صاحب نے اصل حقیقت بیان کرتے ہوئے فرمایا مجھے اپنے دو خواب یاد آگئے تھے جن میں سے ایک میں مجھ پر وہی کیفیت دارد ہوئی تھی تو فلم کے اس منظر میں اول ایکس پر دارد ہونے والی تھی۔