تحدیث نعمت — Page 47
الم مسجد دو کنگ جب واگذارہ ہو چکی تو اب اسے آباد کرنے کا بھی سوال اٹھا۔اس اثناء میں عبد البہاء صاحب امریکہ سے واپسی پر انگلستان تشریف لائے۔ان کے دوستوں اور ہم خیالوں نے ان کے اعرانہ میں مسجد و کنگ میں ایک تقریب منعقد کی جسکو انہوں نے افتتاح مسجد کا نام دے لیا۔لیکن دعوت ناموں کو بہائی اور بہائیت کے ہمدرد اصحاب تک محدود رکھا۔تقریب کا علم ہونے پر سجدہ کے تعلق کی وجہ سے چند مسلمان طلباء اور دوسرے مسلمان افراد بھی دو گنگ پہنچ گئے۔خواجہ صاحب بھی تشریف لے گئے اور میں بھی ان کے ہمراہ گیا۔دوسرے طلباء میں سے جو اس موقعہ پر دوکنگ گئے مجھے شیخ مختصا دق صاحب (امر فسر ، اور خان محمد نوانه خال صاحب فیرونہ پور کے نام یاد ہیں سرسالہ جنگ میموریل ہاؤس میں دوپہر کے کھانے کا انتظام تھا۔لیکن کھانے میں جناب عبد البہا صاحب کے ساتھ وہی اصحاب شریک تھے جنہیں منتظمین کی طرف سے دعوت تھی۔باقی جو لوگ گئے ہوئے تھے انہوں نے سٹیشن پر جو کچھ میسر آسکا تھا یا اگر کوئی صاحب اپنے ساتھ کھانے کو کچھ سے آئے تھے تو اس پہ گزارہ کر لیا۔جو اصحاب عورت پہ آئے تھے اور جو اپنے شوق سے آگئے تھے سب کی مجموعی تعداد چالیس پچاس کے قریب تھی۔ہم سب جو شوق سے آگئے تھے وضو کر کے مسجد میں جمع ہوگئے۔جب اندازہ ہوا کہ مہمان اصحاب کھانے سے فارغ ہو چکے ہوں گے تو خواہبہ صاحب نے عبد البہا صاحب کی خدمت میں پیغام بھیجا کہ نماز ظہر کا وقت ہے آپ نماز کیلئے مسجد میں تشریف لائیں۔انہوں نے کہلا بھیجا میں اپنی جائے قیام پر نماز ادا کر کے آیا ہوں۔چنانچہ لوگوں نے خواجہ صاحب کی امامت میں ظہر کی نمانہ ادا کی سردیوں کا موسم تھا دن بہت چھوٹا تھا۔جلد عصر کا وقت ہوگیا۔خواجہ صاحبنے پھر عبد البہاء صاحب کی خدمت میں پیغام بھیجا۔نماز عصر کا وقت ہے تشریف لائیں۔الیکی بار وہ تشریف لے آئے اور خواجہ صاحب کی اقتداء میں نمازہ ادا کی۔نماز کے بعد مسجد کے دروانہ میں کھڑے ہو کر انہوں نے نہایت صاف بلیس اور سادہ فارسی میں مختصر سی تقریہ کی ہمیں ان کے مین پیچھے کھڑا تھا اور گومیں فارسی زبان بہت کم جانتا ہوں۔مجھے ان کی تقریر کے سمجھنے میں کوئی دقت پیش نہ آئی۔وہ ایرانی لباس پہنے تھے، قد در میانہ کھلا چہرہ ، سفید ریش ، بزرگ صورت ، کلام میں کوئی لفتح نہیں تھا، خلاصہ تقریر یہ تھا۔ہمارا مسلک صلح کل ہے کیسی سے پر خاش نہیں۔امن کے حامی ہیں۔میں ابھی امریکہ سے ہو کہ آیا ہوں۔میں نے وہاں عیسانی گرجوں میں اور سیہودی معبدوں میں بھی عبادت کی ہے اور ہر جگہ یہی پیغام دیا ہے۔دو کنگ مشن کا قیام | اس کے بعد خواجہ صاد نے کوشش شروع کردی کہ ورکنگ کی مسجد کا انتظام ان کے سپرد ہو جائے۔اسی اثناء میں نقل مکان کر کے آپ اپنے نبستی بھائی کے پاس رچمنڈ میں کیو گارڈ