تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 613 of 736

تحدیث نعمت — Page 613

تمل حکم عدالت تا رہے۔عدالت نے یہ مندر ایک دینا ان کردیا مومی کمپنی ے اس حکم کے خلا امریکی سپریم کورٹ میں رافعہ داخل کیا اس مرحلے پرسکوت سوئٹزر لینڈ نے ریاستہائے متحدہ کے خلاف بین الاقوامی عدات میں دعوی دائر کیا اور استدعاکی کہ عدلت قرار ہے ہماری کمپنی سوس یہی ہے اور تو اقدام کمپنی کے خلاف ایی و انجان ہے۔ساتھ ہی سوئٹزر لینڈ کی حکمت نے درخواست دیکہ عدالت اس امر کا ظہارکیسے کرین کے دلت کا فیصلہ صادر نہ ہو امریکی حکمت کمپنی کے حصص فروخت کرنے سے باز ہے۔۱۹۵ عدالت کے قواعد کے مطابق اس درخواست کی فوری سماعت ہوئی۔سماعت کے ان اعلام میکینیکا را عوام کی پریم کورٹ میں منظور ہوکر علامات کا حکم ہی کی روس کمپنی کا ولی خان کیا گیا منسوخ ہوگیا ہے اور سپریم کورٹ نے عدالت ماتحت کو ہدایت دی ہے کیانی کا ولی بال کر کےمطابق ضابطہ کاروائی جار کی جائے۔اس کاروائی کے دوران امریکی حکوم پر سے ہی پابندی تھی کہ فیصلہ حص فروخت کئے جائیں۔اندری حالات بین الاقوامی عدالت نے قرار دیاکہ حکومت سوئٹرزلینڈ کی درخواست پر لات کی طرف سے سی اظہار کی ضروت ہیں۔یہ کم را کنواری شادی و صادر تھا۔سوئٹزر لینڈ کے دعوی کے جواب میں مرکی حکومت نے عذرات انتہائی دائر کئے کہ عدالت کو اختیار ساعت حاصل نہیں نی سے دیا اور یہ اراکین کا دعوی امریکی علتیں میری امت ہے ایک ایک کالم میں نے دین کی پر دی کر رہی ہے، ینی کے دھونی کی کامیاب کی صورت میںحکومت سوئٹزر لینڈ کے نے کوئی وجہ مخاصمت باقی نہیں رہے گی جب تک یہ امام کی دولت یں زیر غور ہے سوئٹزرلینڈ کی حکومت بین الاقوامی عدات میں چارہ جوئی کی جان نہیں فریقین کی کس کسنے کے بعد عدالت نے رار دیاکہ امریکی حکمت کایہ عند قابل پذیرائی ہے اور سوئٹزرلینڈ کی حکمت کا دعوی قبل از وقت ہونے کی وجہ سے قابل سماعت نہیں۔یہ حکم امارت شہداء کو صادر ہوا۔بعدمیںدونوں حکومتوں کے درمیان اس قبیٹے کا رضامندی سے فیل ہوگیا۔حکومت پر نگال اور حکومت ۱۲ دسمبر دار کو بنگال کی موت نے حکمت ہند کے خلاف بین الاقوامی عدالت میں ہندوستان کا تنازعہ دعوی دائر کیا کہ ان کے مقبوضہ ساحلی علاقے دین اور اس کے متعلقہ در پیگیری علاقوں بنام را در زنگی تویلی (جو اندرون ہند میں واقعہ میں) کے درمیان حکومت ہند نے پرتگیزی سلسله آمد و رفت نا جائز ور پر بند کر دیا ہے۔اور استدعا کی کہ عدالت قرار دے کہ من دار اور گریوی کے درمیان پتریکی افواج ، پولیس، اوران ورعایا کو معہ اسلحہ و ساز و سامان تجارت آمدو رفت کا حق حاصل ہے اور حکومت ہند کا اس میں خلل اندازہ ہوتا بین الاقوامی قانون ی خلاف ورزی ہے اور مزید استدعاکی کہ حکومت ہنکو برات دی جانے کو اپنا جائز دل انداز سے بارہ کر تینگال کی شکایت اور حق تلفی کا ازالہ کرے۔حکومت ہند کی طرف سے اس کے جواب میں چھ ابتدائی عذرات کئے گئے کہ عدالت کو اس قضیے کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں۔فریقین کی بحث سنے کے بعد عدالت نے عذرات میں سے باہر کو نور کر دیا اور باقی دو پر واقعات کی بحث کے موقعہ پر مزید حجت سماعت کرنے کا فیصلہ کیا۔اس فیصلے کی تیاری کیلئے عدالت نے مجھے اور ۱۹۵۵