تحدیث نعمت — Page 612
حاصل کیے اور یہ عہد کیاکہ سود دراصل کی اقساط کی ادائیگی سونے کی شرح کے مطابق کی جائے گی۔پہلی عالمی جنگ کے بعد جب اکثر مالک کی حکومتوں نے اپنے اپنے سکوں کو سونے کے معیار آزاد کر دیا تو ناروے کی حکومت نے بھی ایپ کی اقدام کیا اور س کے نتیجے میں ساتھی یہ قانون بھی اندر کی کہ ہر رتنے کی اپنی اور سودی ادائیگی انا الوقت مکی کے ہی ہوگی خواہ قرضہ کے معاہد میں ادائیگی کی شرط اس سے مختلف ہی ہو گویا جہاں جہاں سونے کی شرح کے مطابق ادائیگی کا معاہدہ تھا ناروے کے مقروض اس شرط سے آزاد کر دیے گئے۔فرانسی قرض خواہوں نے طالبہ کیا کہ انک قرضہ جات کی ادائیگی سونے کی شرح کے مطابق فرضوا مطالبہ کال کر کی ادائیگی سونے کی جائے۔یہ مطالبہ ناروے کی طرف سے رد کردیاگیا اورکہاگیا بین الاقوامی اور امام باقری کی ادائیگی مقروض کے علی قانون کے مطابق ہی ہوسکتی ہے۔آخر فرانس کی حکمت نے اپنے ملکی قرض خواہوں کی امت میں یہ معاملہ بین الاقوامی دال میں پیش کردیا در الاساسات ایک کی قراردیا جائے کہ نار کے قومی ادارے کا کام اور سود کی ادائی معاہدے کی رانی کے مطابق کرنے کے پابند ہی یعنی سونے کی شرح کے مطابق جس کے نتیجہمیں کئی گن فرق پڑتا تھا۔ناروے کی طرف سے ابتدائی عمر کیا گیاکہ بین الاقوامی عدات کو اختیار سماعت حاصل نہیں۔دوسرا ابتدائی عذر یہ تھا کہ فرانس کی طرف سے ابتدا ہی میں ار اس تنازعہ کے علالت میںنے سے بھی نا القول بود تا این بین الاقوامی عدالت کا اختیار سماعت قبول کرتے ہوئے داخل کی گئی تھی اسمیں یہ استاد درج ہے کہ میں مارنے کے متعلق حکومت فرانس قرار دے کر تنازعہ فرانس کے نجی قانون سے متعلق ہے اور بین الاقوامی قانون سے اس کا تعلق نہیں اس تنازعے کی سماعت کا اختیار بین الاقوامی عدالت کو نہیں ہو گا۔اگر پیارے کی طرف سے جو دستاویز عدالت کا اختیار ساعت قبول کرتے ہوئے داخل کی گئی تھی۔اس ی ایسی کوئی اتنا وزن نہیں لیکن باہمی سادات ک اصول کی رو سے ناروے کی دستاویز میں فرانس کے بالمقابل ناری کی طرف سے یہ استثناء درج سبھی جانی چاہیے۔ناروے کی حکومت نے قرار دیاہے کہ یہ ناز عہ ناروے کے ملکی قانون سے متعلق ہے بین الاقوامی قانون سے متعلق نہیں۔لہذا بین الاقوامی عدالت کو اس تنازعہ کی سماعت کا اختیار نہیں۔عدالت نے ناروے کے اس درد کو قابل پذیرائی قراردیکر فیصل کیاکہ عدالت کو اس تنازعہ کی ساعت کا اختیار نہیں اس فیصلہ کی تیاری کیلئے عدات نے مجھے اور جو دنیا کی کو منتخب کیا۔فیصلہ 4 مولانی کلہ کو صادر ہوا۔حکومت سوئٹرز لینڈ اور حکومت | دوسری عالمی جنگ کے نتیے میں ریاستہائے متحدہ امریکہ کی حکومت نے ایک ریاستہائے متحدہ امریکہ کا تنازع تجارتی کمپنی کو ان کی اپنی قرار دیکر ایا تو میں نے ای اور اس کے حص رت کر کے کام کیا اراکین نے اس بنا پر کمپنی سی ہے جرمن نہیں امریکی حالت میں مناسب چارہ جوئی کی۔مقدمے کے دوران میں مدعا علیہ کی طرف سےکمپنی کے حیرت اور دستاویزات طلب کرنے کی درخواست دی گئی۔امریکی عدالت نےحکم دیا مطلوبہ دوستانیات در سیرات پیش کئے جائیں۔تاریخ مقرہ پہ مری کین نے درد کی کان میں سے بعض دستا ویزات تو کمپنی کے قبضے اور اختیارمیں نہیں اور باقی دستاویزات کو سوس قانون ملک سے باہرلانے کی اجازت نہیں دیا اسٹے مدعی |