تحدیث نعمت — Page 602
۶۰۲ مطالبہ کی ایم سے جانتے ہو تو یزید داخل کی علیحدگی کا بھی مطالبہ کو اس مشترکہ مطالبے کی تاب میں تم ہمارے ساتھ شامل ہوسکتے ہیں۔اب اگر وزیر خارجہ کو سلے فارغ کردیا گیا تو مشرقی پاکستان کے تو دوست ہمارے ساتھ شامل ہیں ہیں وہ خیال کریں گے کہ ہم نے ان کی تائید کے ذریعے انا کام تو کال لیا ہے اور وزیر داخلہ کے فارغ کئے جانے پر زور دریا کئے جانے ایا اور وہ ہم سے بری ہوجائیں گے ہم نے انکے ساتھی کیاہے جو وزیراعظم اسے یہ کیفیت کابین کے اجلاس میں بیان کی تو چودھری محمد علی صاحب وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ معامل اسطرح بیٹے کا نہیں اس کا فیصلہ اصولی طور پر ہونا چاہیے۔آپ ان دونوں صاحبان سے صاف طور پر کہیں کہ ہ نے خود بھی آپ کے مطابے پر غور کیاہے و اپنے کابینہ کے رفقاء کے ساتھ بھی اس کے متعلق مشورہ کیاہے۔جن دو پیروں کی علیحدگی کا مطالہ کرتے ہیں انہیں اپنے رفقاء کا اعتماد حاصل ہے اور کامیہ آپ کے لالے کو تیم کریکوتیارنہیں اگرآپ کواپنے ملبے پر مصر ہے تو یم آپ بینک نیا ملالہ پارٹی کے روبرو پیش کریں ہم پارٹی کے اجلاس میں آپ کے ملبے کی مخالف کریں گے اور یہ دنی دیں گے کہ اگر پار ٹی کی کرتا ہے تائید میںہوئی تو تم اس کا بندہ کے خلا بے اعتمادی کا شوت سمجھیں گے اوراس کے سب وزارت سے دست بردار ہو جائیں گے۔اس صورت می پارٹی ٹی کا منہ اپنی نشت کے مطابق تشکیل دیگی اور آپ کا مقصد حل ہو جائے گا۔کابینہ کے سب اراکین اس تجویز کے حق میں تھے۔میراندازہ ہے کہ وزیراعظم صاحب نے اس فیصلہ کے مطابق میاں صاحب اور سردار صاحب کو کہ دیا ہو گا کیونکہ اس کے بعد میں نے اس مطالبے کا کوئی ذکر نہ سنا۔اری مطالبه توختم ہوگی لیکن میری بیت مرد اس کا ہی کیا کیونکہ اپریل کے دن کابینہ کا اجلاس شروع ہوتے ہی میں نے وزیراعظم صاحب سے ایک وانی گذارش کرنے کی اجازت چاہی اور اجازت ملنے پر عرض کیا پچھلے سال مغربی پاکستان کے بعض حصوں میں جو شورش ہوئی وہ اگر چہ نایت نفوسنا اور پریشان کن تھی لیکن میری دانست میں س کے بعد پاکستان کی وزارت خارجہ کی ذمے دار میرے پر دینے کے تھے میں گر جال میں پاکستان کو سیستم یک وقت کا سامنا نہیں ہوا۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتیہے کہ سفران متعینہ پاکستان اپنی این حکمت کو پانی ناشر ارسال کی جوکہ زیر خارجہ کے خلاف جو آواز اٹھائی کی وہ من مغربی پاکستان کے ایک قلیل حصے نے اٹھائی جس میں ایک عمر تو سیاسی نوری رکھتا تھا لیکن باقی عنا اختلاف عقائد کی و جہ سے شامل ہوئے تھے بنی امت میں وزیر خارجہ کی پرانی ہے کی نسبت کسی اظ سے کمزور نہیں میں نے اس وقت بھی خواہ ناظم الدین صاب کی خدمت می گذارش کی تھی کہ کر کیے وزارت سے علیدہ ہونے سے انکی مشکل حل ہو جاتی ہوتو میرا استعفے حاضر ہے لیکن انہیں یہ منظور نہ ہو۔اب پچھلے دنوں جو صورت حال پیش آئی دہ خالصہ سیاسی بھی پارلیمنیٹری پارٹی میں ایک فرق ایسا ہے تومیری علیحدگی کامطالبہ کرتارہا ہے۔بیرونی سفارتخانے اس سے مطلع میں پچھلے سال کی شورش کے وقت کسی سیف نے میرے ساتھ کسی قسم کے نام کا اظہار نہ کیا تھا۔اس سال لبعض سفراء نے اس قسم کے حملے استعمال کئے ہیں۔امید ہے تم ڈٹے رہو گے۔امید ہے تم استعفے میں نہیں کرو گے " تمہارے جانے # "