تحدیث نعمت — Page 41
ذکر کیا اور لکھا کہ میں اچھی ہو رہی ہوں لیکن اچھا ہونا مقدر نہیں تھا۔ان کی بڑی بہن ان کی زندگی میں فوت ہو چکی تھیں۔بوب لندن سے نقل مکان کر کے در دنگ گئی تھیں تو ایہ جات وغیرہ اور ذاتی نہیں کی چیزوں کے علاوہ بہت تھوڑی اشیاء ساتھ لے گئی تھیں۔ان میں ایک میری والدہ کی تصویر بھی کہا کرتی تھیں۔انہیں دیکھ کہ مجھے بڑا حوصلہ ہوتا ہے اور ہمت بڑھتی ہے۔ایک رنگین کارٹون ان کا اور ان کے شوہر فرنیک بین بزرح کا تھا۔ہجو اس زمانے کی یاد گار تھا جب زندگی کی امنگیں ابھی انٹرگی کی قباء میں ملبوس نہ ہوئی تھیں۔ایک چاندی کا چائے کاسٹ تھا اور ایسی ہی متفرق اشیاء و یادگار کے طور پر تھیں۔مجھے کہ رکھا تھاکہ میں ہدایت چھوڑ جاؤں گی کہ تمہاری والدہ کی تصویہ ، فرنیک کا اور میرا کارٹون بچائے کے سٹ میں سے دودھ دان امتہ الحی کیلئے تمہیں بھیج دیئے جائیں۔ان کی وفات کے بعد ان کی بہن اپنی کا خط میرے نام آیا جس میں ان کی وفات کا ذکرہ تھا اور لکھا تھا۔اکیلی کی ہدایت نفی کہ یہ اشیاء تمہیں بھیج دی جائیں۔تم جیسے لکھو میں بھیج دوں۔میں نے انہیں افسوس اور تیمداری کا خط لکھا اور لکھ دیا کہ میرے پتے پر اپنی بہن کی نشانی مجھے بھیج دیں۔جنگ کا زمانہ تھا معلوم نہیں میرا خط انہیں ملایا نہیں۔اگر ملا اور انہوں نے وہ اشیاء روانہ کردیں جیسے کہ توقع ہے کہ انہوں نے ضرورہ روانہ کر دی ہوں گی تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ رستے میں تلف ہو گئیں۔وللہ اعلم بالصواب۔لیکن میرے دل میں اکیلی بین بمرج کی یاد تازہ رکھنے کیلئے کسی تصویر یا کارٹون کی حاجت نہ تھی میرے ان کے درمیان سوائے ہماری مشترک انسانیت کے اور کوئی رشتہ واسطہ نہیں تھا۔مجھے کسی نے ان کے نام کوئی تعارفی خط نہیں دیا تھا۔بیشک ان کے بڑے بھائی فرینک پارسنز مدراس میں انڈین سول سروس میں تھے اور نیشن پر جانے سے پہلے مدراس کے گورنہ کی کونسل کے رکن رہ چکے تھے لیکن کجا مدراس اور کیا پنجاب۔نہ وہ مجھے جانتے تھے نہ میں انہیں جانتا تھا۔ان کا نام بھی میں نے انکی بہنوں ہی سے سنا تھا۔ان کے چھوٹے بھائی نارفوک میں سلوسٹر تھے اور قانون پیشہ تھے۔میں قانون کا طالبعلم تھا اور ان سے بھی میر التعارف نہیں ہوا۔میرے ساتھ جو اکیلی بین بمنح تعارف کے وقت سے اپنے آخری سانس تک قریباً تیس سال کے عرصے میں کمال شفقت اور اخلاص سے پیش آتی رہیں اس کا موجب نکی ذاتی شرافت اور حسن اخلاق تھے وہ بہت خوش شکل اور ٹبری باوقارہ خاتون تھیں لیکن اس سے بہت بڑھ کر خوش خلق تھیں۔اور یہ زیورہ انہیں بہت ہی سمجھتا تھا۔میرے ایک ہندوستانی رفیق کو ہمارے مکان میں ان سے ملنے کا اتفاق ہوا۔انہوں نے کھانے کی دعوت دی۔املی نے قبول کر لی یہ جانتے ہوئے کہ مسٹر بین بر ج اچھے طبقے میں میل جول رکھتی ہیں میرے