تحدیث نعمت — Page 42
رفیق انہیں کسی اعلیٰ درجے کے مطعہ میں لے جانا چاہتے تھے لیکن مستر بین بنچ نے ایک درمیانی درجے کے مطعم کا انتخاب کیا اور کھانے کے آخر میں جب خادمعہ بل لائی تو بڑے اصرار سے خود بل ادا کیا اور ان سے سکرا کر کہ تم ظفر اللہ کے دوست ہو اسلئے میرے بھی دوست ہو لیکن تم طالب علم ہو اور اپنے وطن سے باہر مناسب نہیں کہ تم میری خاطر کچھ خرج اپنے دیتے ہو۔میں اس بات کی قدر کرتی ہوں کہ تم نے مجھے دعوت دی اور تمہاری ممنون ہوں کہ اپنے قیمتی وقت میں سے تم نے ایک شام میرے لئے صرف کی جو میری خوشی کا باعث مند ہے۔تمہاری استقدیر تواضع ہی کافی ہے۔میرے رفیق نے واپسی پہ یہ بات مجھے سنائی اور باقی گی ذکر کیا لیکن بار بار یہ کہتے کہ میں تم سے پہلے کا اس ملک میں آیا ہوں اور میری واقفیت کا حلقہ خاصا وسیع ہے۔لیکن میں نے ایسی شریف اور خوش اخلاق خاتون یہاں نہیں دیکھی۔انہوں نے اپنی تو تصویر مجھے دیکھتی اس سے ہر دیکھنے والا ہی قیاس کرتا کہ یہ کسی ملکہ یا شہزادی کی تصویر ہے۔بایں ہمہ صفات نہایت منکسر مزاج تھیں میں نے انہیں کبھی بلند آواز سے کام کرتے نہیں سنا نہ کبھی کوئی لفظ کس کی تحقیر یا مخالفت کا ان کے نے کا آغانہ شباب میں خاوند سے علیحدگی ہوگئی ہمہ صفت موصوف اور صاحب شردت تھیں، چاہنے والوں کی کمی نہ ہوگی۔چالیس سال سے زائد عرصہ عمل ہو گی میں گزارا۔کوئی حرکت اعلیٰ درجہ کی شرافت اور کامل عفت اور عصمت کے متضاد بھولے سے بھی سرزد نہ ہوئی۔زندگی افسردہ لیکن چہرہ ہر لحظہ میناش ہونٹوں پر ہر وقت مسکراہٹ، میں انکی نظر میں کیا حیثیت رکھتا تھا ؟ پنجاب کے زمیندار طبقے سے لندن جیسے شہر میں ہو اس وقت تہذیب، علوم اور شردت کا مرکز شمار ہوتا تھا بالکل نو وارد۔وہاں کے طور طریق اور آداب تک سے ناواقف۔میری عمران سے نصف ، میرا تجربہ ان کے مقابل میں صفر، میری گفتگو ان کے لئے پھینکی اور بے مزہ ، انہیں میں خیال آتا ہو گا کہ یہ نوجوان اپنے وطن اور عزیزوں سے دور اکیلا ہونے کی وجہ سے ضرور افسردہ دہ سنا ہو گا۔میں جو اکیلے پن کا ذاتی تجربہ رکھتی ہوں اور افسردگی سے واقف ہوں کسی حد تک اپنی شفقت سے اس کی اداسی کو ہلکا کرسکتی ہوں۔اور کچھ ایک مجھ پر سی موقوف نہ تھا۔ایملی میں بمدت نے دوسروں کی دلجوئی اور غمخواری کو اپنا شعار بنالیا تھا۔اور اس طرح اپنی افسردگی پر دوسروں کی خوشی اور پیشانت کا غلاف چڑھا لیا تھا۔اللہ تعالی جو بہت ہی قدردان آتا ہے اور اپنے ہر بندے کے دل کی گہرائیوں پر نظر رکھتا ہے اور انہیں خوب پہچانتا ہے۔ایلی بین بزر کے ساتھ اس سے بہت بڑھ کر رحمت اور شفقت کا سلوک فرماتے ہو انہوں نے اس کے بندوں کے ساتھ روا رکھا کہاس الرحم الراحمین کی رحمت کی کوئی انتہا نہیں۔آمین کرنل و مسٹر ہاورڈ کچھ عرصہ کیلئے کرنل اور سر نادر ڈ بھی جو کینیڈا سے سیر کیلیئے آئے تھے اس مکان میں ٹھرے۔وہ پرانٹ فورڈ انٹاریو کے رہنے والے تھے۔یہ شہر آبشار نیاگر اسے قریے۔چونکہ انہیں لندن کی سیر