تحدیث نعمت — Page 567
046 ایران کے مشورے میں کیا۔وزیر علم و این را دارم می میری بات سن لی جس سے میں نے یہ نیہ اخذ کیاکہ وہ پہلے ہی معاہدے کی موافقت پہ آمادہ ہو چکے تھے۔ورنہ اگران کی طبیعت بھی تک مخالفت کی طرف مائل ہوتی تو وہ حسب عادت پورے جوش سے اس کا اظہار کر دیتے۔اس معاملے میں مسٹر ایڈن شروع سے ہمدردانہ رویہ اختیار کئے رہے اور آہستہ آہستہ انہوں نے وزیر اعظم کو بھی رضامند کر لیا۔ہر سوئیز کے مصری تصرف میں آجانے کے بعد جو مخالفانہ بلکہ معاندانہ رویہ مسٹرایڈین نے اختیار کیا اس میں اسبات کا بھی بہت دخل تھا کہ افواج کے انخراج کے بعد مصر کے ساتھ جیسے دوستانہ تعلقات کی امیران کے زمین میں تھی وہ پوری نہ ہوئی۔جب اپنی شدید صدمہ ہوا۔ملک اور پارٹی کی نگاہ میں سوئیز کے علاقے سے برطانوی افواج کے اخراج کی ذمہ داری مسٹر انڈین پرتھی۔اگر برطانوی افواح سوئیز کے علاقے میں موجودہ ہو ئیں تو ہر سوئز پر مصری حکومت اپنا نصرف قائم نہ کرسکتی۔ملک اور پارٹی کا رد عمل یہ تھاکہ مسٹر ایڈین نے برطانوی افواج کے اخراج پر رضامند ہو جانے سے شرق اوسط میں برطانوی طاقت اور وقار کو صدمہ پنچایا جس کےنتیجے میں مر نہ سوئی کو اپنے والد قرن میں لے آیا ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ دو عالمی جنگوں کے نتیجے ہا نہ رسی سے اردو ہوچکا تھا اور اس کمزوری کی وجہ سے بہت حدتک اپنا رب بھی کھو چکا تھا۔دوسری جنگ کے بعد جو حالات دنیا بھرمیں رونما ہو رہے تھے اور آزادی کی اور چل رہی تھی ان کے نظام کے اصرار پر یمانی افواج کا سٹیز کے علاقے سے اخراج ناگزیر تھا میرائی کی ہمدردانہ دو سے یہ مسلہ بخیروخوبی طے ہوگیا۔ور ر شاش کی صورت پیدا ہوتی تو برطانیہ کی سی ہوتی اور نتیجہ پر بھی وہی ہوتا۔بعد کے واقعات اس حقیقت کی تائید کرتے ہیں اس وقت کے لحاظ سے بھی دو باتیں کسی قدر معنی نیز تھیں۔اول :- برطانوی افواج کے اخراج کا مطالبت و فاروق کے عہد میں وندی وزارت نے کیا تھا۔یہ اقدام انقلاب کا نیچے نہیں تھا ملکہ انقلاب سے پہلے کیا جاچکا تھا۔انقلابی کونسل کے لئے اس پر زور دینا لازم تھا کیونکہ ان افواج کی سوئیز کے علاقے میں موجود گی مصر کی کامل آزادی کے رستے میں روک بھی نہیں کا دوسری عالمی جنگ کے بعد کے حالات میں دور کیا جانا لا کر تھا۔دوسرے ، برطانیہ کی فوجی طاقت کے انحطاط ہی کا نتیجہ تھاکہ خود سوئیز کے علاقے کے کمانڈر انچیف جنرل را بر شن شدت سے آرزومند تھے کہ مسئله مصالحانہ گفت وشنید سے ہی سمجھ سجائے اور کسی قسم کے تصادم کی صورت پیدا نہ ہو۔ورنہ فوجی روایات کے تو یہ امر بالکل خلاف تھا۔کہ وہ اس مسئلے کے سیاسی تصفیے میں استقدر گیری موسی لیتے۔سوڈان کی آزادی کامسئلہ سب اقوام متحدہ کی سیل میں میری یا قرار پایا کہ سوڈان کے گورنر جنرل کی ایک مشاورتی کونسل بنائی جائے جس کے پانچ رکن ہوں۔ایک پاکستانی جومت اورتی کونسل کا صدر ہو ایک برطانوی