تحدیث نعمت — Page 568
041 ایک مصری اور دو سوڈانی۔پاکستانی رکن کی ذمہ داری بحیثیت صدر نہایت اہم تھی اسنے میری تجویز بھیک اسی منصب کے لئے پاکستان کی خانہ جو سروس کے سب سے سینٹر اور مان رکن مٹر اکرام الد و تو شروع سے پاکستان کے خارجہ سیکریٹری تھے منتخب کیا جائے۔مصر کے وزیر خارجہ اس زمانے میں محمود فوزی صاحب تھے تو مصری انقلاب سے قبل اقوام متحدہ میں مر کے مستقل نمائندے تھے۔میرےاور ان کے درمیان دوستانہ مراسم تھے۔ان کی طرف سے مجھے پیغم موصول ہوا کہ انہیں کرام اللہ صاحب کے تقریر اور اطمنان ہیں کیونکہ مشاورتی کونس کے برطانوی نمائندے سر یعنی سمتھ ہوں گے تو پاکستان میںبرطانوی نان کمتر رہ چکے ہیں اوران کے اور مراکرام الہ کے درمیان دوستانہ مراسم ہیں۔انہیں اندیشہ تھا کہ مٹر کا مال ان کی راے سے متاثر ہوں گے۔میں نے اپنے جواب میں انہیں اطمینان دلانے کی کوشش کی کہ یہ اندیشہ بالکل بے بنیاد ہے۔مسر اکرام الل کے تعلقات تمام سفرائے متعین پاکستان کے ساتھ دوستانہ تھے۔وہ سرکہ بیٹی سمتھ کو خوب جانتے ہیں اور یہ امر اسبات کی ضمانت ہونا چاہئے کہ وہ سرگرینٹی کی سینا واجب چال کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔لیکن محمود فوزی صاحب مطمئن نہ ہوئے اور مجھے مشورہ دیا کہ سب طیب میں صاحب کو اہر میں پاکستانی سفیر بھی مر کر دیا جاے اور ساتھی سوڈان کے گورنر جنرل کی مشورتی کونس کا رکن اور صد بھی نامزد کر دیا جائے وہ بیک وقت ان دونوں مناصب کے فرائض کو خوبی سر انجام دے سکیں گے۔مجھے مصری وزیر خارت کے اس اقدام پر بہت حیرت ہوئی۔ایک تو انہیں صاحب تجربہ سیاستدان ہونے کی حثیت سے معلوم ہونا یہ تھا کہ پاکستانی سفارتون کے لئے موزوں انتخاب کرنا پاکستانی حکومت کا کام ہے اور ایک دوسری حکومت کا اس مں دخل اندازی کرنا واجب نہیں۔میں نے مصری اور پاکستانی با کی دوستانہ تعلقات اور محمود نوری صاحب کے ساتھ اپنے ذاتی دوستانہ مراسم کے پیش نظر ن کے لیے پیغام کوایک غیر سمی شخصی شور سمجھ کر مسیحیت میں جواب ان کے اطمینان کی کوشش کی تھی۔اگر یں ان کا پہلا کے باوجود اکرام الل صاحب کی نامزدگی کا اعلان کردیا قریہ اور اب بات نہ ہوتی۔وزیر خارجہ صاحب کی خدمت یں صرف محنت کا پیام بھی دینا کافی ہوتا کہ مھے اطمینان سے کہیں مرنے کا آپنے اظہار کیا ہے اسکی کوئی نیاد نہیں۔لیکن میں نے مناسب سمجھاکہ جہاں تک ہوسکےسوڈان کی مکمل آزاد کا مرحلہ پاکستان سفر در سوڈان کے بابھی تعاون سے بخیر و خوبی سرانجام پائے۔انہوں نے میری تواضع سے الا یہ نتیجہ کالا کریں اپنے فرائض منصبی کی انجام دہی میں ان کی ہدایت پر عمل کرنا منظور کرلوں گا۔میں نے دوسرے پیغام کے جواب میں انہیں اطلاع دیدی کہ کومحمد اکرام اللہ صاحب کی نسبت کی رائے سے مجھے اتفاق نہیں لیکن مجھےان کے تقریر پارا نہیں اورمیں نے میاں ضیاء الدین صاحب کو جو اس وقت ٹوکیو می سفر پاکستان تھے مشاورتی کونسل کا رکن نامزد کر دیا۔تھوڑا عرصہ بعد مجھے قاہرہ جانے کا اتفاق ہوا۔وزیر خارجہ مصر سے ملاقات ہوئی میں نے ان کی خدمت میں گذارش کی کہ حکومت پاکستان میمنی ہے کہ سوڈان کی مکمل آزادی جلد سے جلد عمل میں آئے اور مصراور سوڈان کے درمیان دوستانہ رابطہ قائم ہو جائے۔