تحدیث نعمت — Page 548
☑ واپس بلالیا جائے۔ہندوستان نے قرار داد کی اس شہر کی تعمیل کی ایک تو یہ مشن میں پیش کی تھی لیکن کمشن نے قرار دیا کہ ہندوستان کی یہ تجویز قرارداد کی شرط کو پورا نہیں کرتی یعنی منیتی افواج ہندوستان ریاست سے واپس بلانے پر تیار ہے وہ ہندوستان کی افواج متعینہ ریاست کشمیر کا گلاں قرار نہیں دیا جاسکتا۔ہندوستان کا یہ کہنا تھا کہ جو حصہ انہوں نے ریاست سے واپس بلانا تجویز کیا ہے وہ ان کے اندازے کے مطابق ان کی افواج متعینہ کشمیر کا کمال یعنی زیادہ حصہ ہے اور تجر تصہ وہ ریاست میں چھوڑ نا بتجویز کرتے ہی وہ انکی افواج متعینہ BULK تجویز کرتے وہ کشمیر کاکمتر حقہ ہے۔صاحبان میں آپ کی خدمت میں اور آپ کے توسط سے ہندوستان کے سامنے ایک بہت آسان بعد میں اور تجویز پیش کرتا ہوں۔ہم نہیں جانتے اور آپ بھی نہیں جانتے کہ ہندوستان نے کتنی افواج کا ریاست سے انکار تجویز کیا تھا اور کتنی افواج کا کشمیر مں چھوڑ نا تجویز کیا تھا۔لیکن اتناہم سمجھتے ہیں کہ جو حصہ انہوں نے نکالنا تو نہ کیا تھا وہ ان کے اندازے کے مطابق بڑا حصہ تھا اور جو حصہ یہ مجھے چھوڑنے والے تھے وہ چھوٹا حصہ تھا۔میری یہ خونم ہے کہ جو حقہ یہ نکالنے کو تیار تھے اور جوان کے اندازے کے مطابق بڑا حصہ تھا وہ یہ نہ نکالیں اور اسے مجھے تھوڑ دیں اور جو حصہ یہ مجھے چھوڑنے والے تھے جسے یہ تھوڑا حصہ شمار کرتے تھے وہ حصہ یہ ریاست سے نکالیں۔انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیئے۔یہ تجویز بھی سہندوستان کو نا منظور ہوئی۔اس سے یہ بھی ظاہر تو گیا کہ ہندوستان ے تو جونہی انخلاء افواج کے متعلق کشمیر کمشن کو پیش کی تھی اس میں صرت قلیل حصہ اوان کو واپس بلانے پر آمادگی ظاہر کی تھی اسی اثناء میں حکومت ہند نے بر طریق سے کشمیر کے عوام کواپنے حق میں پھسلانے کی کوششیں شروع کر دیں انہوں نے اس حقیقت کو نظر اندانہ کردیا کہ واسباب پاکستان کے ظہور میں آنے کا موجب ہوئے تھے وہی اسباب کشمیر اور سہندوستان کے اتحاد کے رستے میں روک ہیں۔بلکہ بعض وجوہ سے کشمیر کے رستے میں یہ ردوک اور بھی نا قابل عود ہے۔براعظم ہند یا کہ اگر یہ مسلمانوں کو ہندو ذہنیت کابہت کچھ تلخ تجربہ والی مسلمانوں پر ہندو ذہنیت کی کرم فرمائی کے رستے میں برطانوی اقتدار ایک حد تک حائل رہا تھا۔اس کے برعکس کشمیر مں ڈوگرہ راج ایک سوسال سے سلم آبادی کو بے دردی سے کچلنے میں بلاروک ٹوک مصروف رہا تھا۔یہ امید رکھا کہ ڈوگرہ مظالم کی یاد کشی کے مساوی کے دل و دماغ سے جو کی جائے گی عبث ہے۔پھر تقسیم ملک کے بعد خود ہندوستان میں جو سلوک مسلم اقلیت کے ساتھ دار کھا جارہاہے کشمیرکے مسمانوں کی آنکھیں کھونے کے لئے کافی ہے۔تیرے ہندوستانی فوج کی طرف سے جو ظالمانہ اور سیاسیون سوک کشمیر کی مسلم آبادی کے ساتھ ہورہا ہے وہ ہندوستان اور کشمیرکے مسلمانوں کے درمیان یک ناقابل عبور خلیج قائم کرنے والا ہے۔ہندوستان کی انھیں کھلنے کے امکانی ہونا چاہیے کہ وی شیر شیر قائم وا شیخ عبد اللہ جن کو پنڈت ہر بیٹے نرسے کثیر کے متعت اپنے موقف ی تائیدیں پیش کیا کرتے تھے آخر کا ر ہندوستان کے سلوک اور پنڈت صاحب کی وعدہ خلافیوں سے سنتی حال کرکے کشمیرکے من مخدر اختیاری کی تائید میں اٹھ کھڑے ہو