تحدیث نعمت — Page 549
جس کی پاداش میں پنڈت جی نے انہیں بغیر مقدمہ چلائے بارہ سال تک جیل میں رکھا۔اس طویل تر است سے رہا ہونے کے بعد وہ پھر اس حق کے حصول کے لئے انتہائی جدو جہد کر رہے ہیں۔حال ہی میں شیخ صاحب نے کشمیری عوام کی کنونشن میں تقریر کرتے ہوئے صاف صاف الفاظ میں اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے پنڈت جی کے وعدوں پہ اعتبار کرنے میں لطی کی اور الزام لگایا ہے کہ نیات میں نے نہ صرف ان سے کئے گئے وعدوں سے انحراف کیا بلکہ اقوام متحدہ کی مجلس ان میں جو کچھ انہوں نے منظور کیا اس سے بھی مسخر ہوگئے اورکشمیر کو ہندوستان کی کالونی بنے کی پالیسی اختیار کر لی۔ہندوستان نے جو اقدام کشمیر کا الحاق اپنے ساتھ کرنے کے سلسلے مں کئے ان میں سے ایک کشمیر میں آئین سانہ ملین کا قیام تھا۔جونہی اس کے متعلق ہندوستان کی طرف سے ابتدائی اعلان ہوا پاکستان نے محلیسی اس میں اس کے خلاف احتجاج کیا۔اس احتجاج کے جواب میں سمہ بی این راؤ نے جو اس زمانے میں اقوام متحدہ میں بندان ++ بنان ارستان کے منتقل نمائندہ تھے حکومت ہند کی طرف سے ایک بیان مجلس امن کے دی ہر پڑھ کر سنایا جس میں کہاگیا تھا کہ سنتان مجوز مجلس آئین سانے کا الحاق کے مسئلے پر اظہار اے کرنے سے روک نہیں سکتا لیکن چونکہ یہ مشد مجوزہ مجلس کے خفیہ سے باہر ہو گا اس لئے اگر وہ مجلس اس مسئلے پر کسی رائے کا اظہار کیسے تو اس کا کوئی اثر اس قضیے پر نہیں ہوگا تو حلبی امن کے سامنے ہے۔لیکن حکومت ہند کے اس اعلان اور اقرار کا بھی وہی حشر ہوا تو ان کے بانی معاہدوں کا ہوتا ہے۔اور بات آخر ہندوستان نے یہ کہا یا ہندوستان کے ساتھ حات کی تائید کر چکی ہے اسلئے اب اس مسئلے پر کسی استصواب رائے عامہ کی ضرورت نہیں رہی ! مجلس امن میں کشمیر کے مال پر ہندوستان کی مانگی جو سمٹ کر تامین کرنے لگے تو انہوں نے سر سے ندوستان کی تمام ذمہ داری سے ہی انکار کر دیا او توکہاکہ ریاست الحاق ہندوستان کے ساتھ پہلے دن سے ہی افواج کا انخلاء اسی صورت میں لازم آتا ہے جب پاکستان کی تمام افواج آزاد کشمیرسے واپس ہو جائیں چونکہ کپتان نے اس تمام عرصے میں اپنی اس ذمہ داری کو پورا نہیں کیا اسلئے ہندوستان اپنی ذمہ داری سے آزاد ہو چکا ہے۔تیرے چونکہ اس تمام عرصے میں حالات بہت حدتک بدل چکے ہیں اسلئے ہندوستان اب قراردادوں کا پابند نہیں ہا۔چوتھے چونکہ اب ہندوستان نے آئینی طور پر ریاست کو ہندوستان کا وہ قرار دیدیا ہے اس سے کم یہ عمل ہوگیا ے اور کوئی تنازعہ باقی نہیں رہا جس پر مجلس امن یا کی اور ادارے کو کچھ کہے یاکرنے کاستی ہو۔ان سب باتوں کا کافی شافی جواب دیا گیا لیکن میر میں ان کی بیٹی پر قائم رہے۔مجلس امن تو فروری ماء میں ہی سٹرائیکی کے افسوسناک اقدام کے نتیجے میں ان بے بسی کا اظہار کر چکی تھی۔مشرکر نامین کی موشگافیوں کو ملبس کے اراکین جیرانی +