تحدیث نعمت — Page 531
۵۳۱ اور یہ امر میرے لئے بہت اطمینان کا موجب تھا۔چودھری صاحب کی لیاقت تا برادر علمی تجر سے پورا پاکستان واقف ہے میاں ان کے متعلق کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔اتنا ضرور کہناہے کہ کشمیر کے عالم میں انہوں نے کال تو جہ اور تندی کے ساتھ دن رات ایک کر کے نہ صرف میرے ساتھ تعاون کی ملکہ ہر چھوٹے بڑے متعلق ری متعلق بنی ، نیم سرکاری اور سرکاری امرمیں میرا بوجھ لیا گیا۔خود تکلیف برداشت کی اور مجھے آرام پنچایا ہر قدم پر میں نے ان کے مشورے اور ندیہ کو مصائب اور مفید پایا۔کراچی سے ہم رات کے وقت میں امریکن نہا سے روانہ ہوئے اندازہ تھاکہ درجنوری کو ہم لفضل لله نیو یارک پہنچ جائیں گے لیکن اور کی شام کو لندن پہنچنے پر ہمیں بتایاگیا کہ طیارے کے ایک انجن میں کوئی نقص پیدا ہو گیا ہے اس لئے لندن میں چند گھنٹے رکھا ہو گا۔دوسری صبح اندازہ ہو سکے گا کہ کب روانگی ہوگی۔دوسری صبح دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ سر پر یا شام کو روانگی ہوگی۔ہم نے اس تاخیر سے یہ فائدہ اٹھایا کہ پاکستان تانی کمشن میں بیٹھ کہ ان دستاویزات کے تحریری جواب کی تیاری شروع کر دی جو حکومت ہندوستان نے مجلس امن میں اپنی در خو اس کے ہمراہ ملیش کی تھیں۔چودھری محمد علی صاحب کی مدد سے کچھ نوٹ بھی مرتب کئے اور پھر ان کی موجودگی اور نگرانی میں پاکستان کی طرف سے تحریری بیان بھی تیار کر دیا۔اتنے میں شام ہوگئی اور مطار سے بلاوا آ گیا۔لندن سے روانہ ہوکر جب گینڈر پہنچے تو دریای به فانی طوفان جاری تھا۔رات مطار پر گذاری لیکن سونے کی جگہ میر گئی الحمد للہ لندن میں مضمون اما کرایا گیا تھا سے ہمارے سٹینو گرا نے راتوں رات ٹائپ کر لیا۔انہیں اس کام کے لئے رات کا اکثر حصہ جاگنا پڑا فجزاہ اللہ ان کی کوٹھڑی اور میری کوٹھڑی کے در میان صرف ایک لکڑی کی دیوار تھی۔ٹائپ کی مشین کی آواز نے مجھے بھی کچھ زیادہ سونے نہیں دیا۔وا کی صبح کو گینڈے سے روانہ ہوکر سہ پہر کو ہم نیویارک پہنچے۔یہاں بھی بہت برف باری ہو چکی تھی۔لیکن ہمارے پہنچنے تک برف پگھلنا شروع ہو چکی تھی۔مرزا ابوالحسن اصفہانی صاحب سیفر پاکستان متعینہ واشنگٹن اور لاری شفیع صاحب قنصل پاکستان متعین نیو یارک مطار پرموجودہ تھے۔ہمیں پریشانی بھی کہ مار سے ہی سیدھے مجلس امن کے اجلاس میں شمولیت کے لئے ایک کسیکسی بجانا ہو گا۔علاوہ تھکان اور شب بیداری کے ہماری دستاد بنیات بھی ابھی تیارہ نہیں تھیں اور اصل مسئلے کے متعلق غور اور تیاری کا تو بھی کوئی موقع میسرنہ آیا تھا لیکن طیارے سے اترتے ہی غیر صاحب نے فرمایا کریہ کہ جب تمہارے سفر می ہر مقام سے تاخیر کی اطلاع آنا شروع ہوئی تو ہم نے اندانہ کر لیا ہ تم ہر وقت نہیں پہنچ سکو گے۔چنانچہ ہم نے ملبس امن کے صدر کی خدمت میں گذارش کی کہ اندریں حالات اعلاس ملتوی کیا جائے۔انہوں نے ہماری درخواست پر اجلاس پندرہ جنوری تک ملتوی کر دیا ہے۔ہمارے لئے یہ جبرایک خوش کن مردہ تھی۔ہم مطار سے بجائے ایک سیکس جانے کے سیدھے بارکلے ہوٹل گئے اور آرام کا سانس لیا اور اللہ