تحدیث نعمت — Page 530
۵۳۰ کو بلا کر وہی الفاظ ان سے کہے جو قائد اعظم نے ان سے کیسے تھے لیکن اس فرق کے ساتھ کہ ایک انہوں نے ان کی رپورٹ دینے کا وقت اس وقت سے ایک گھنٹہ قبل تقریر کیا جو نام اعظم نے ان کی رپورٹ کے لئے مقر ر کا تھا دوست یہ ہدایت دی کہ اگر گولی چلانا پڑے تو ہرگوئی کے مقابلے میں بلوائیوں کی ایک لغش انہیں دیکھائی جائے۔جنرال اکر خاں چلے گئے اور مقررہ وقت سے آدھ گھنٹہ قبل آکر رپورٹ دی کہ شہر میں پورا امن ہے۔سکندر مرزا -:- گولی چلانا پیری ؟ جنرل اکبر خال : بیشک سکندر مرزا :- کتنی گولیاں چلائیں ؟ سبزلی اکبر خان : بارہ اور یہ ہیں ان کے خالی کار توس سکندر مرزا -:- اور نعشیں ؟ جنرل اکبر خان - - ابھی موقعہ پر پڑی ہیں چلئے دیکھ لیجیئے۔شمال : وہ جنرل اکبر خان کے ساتھ گئے جنہوں نے مختلف مقامات پر گیارہ نعشیں دکھلائیں۔سکندر مرزا : ایک نعش اور چاہئیے ؟ جنرل اکبر خاں آئیے وہ بھی دیکھ لیجیئے جنرل اکبر خان انہیں اسپتال لے گئے اور ایک زخمی ہسپتال میں دکھایا اور کہا یہ خوش قسمتی سے زندہ بچ گیا ہے۔اس کے بعد آج تک کراچی میں فرقہ وارانہ فادات کی کوئی واردات نہیں ہوئی۔میں سات کی شام کو کراچی پہنچا تھا م کا دن سفر کی تیاری کے سلسلے میں بھاگ دوڑ میں گذرا۔میرا سامان کچھ ۱۸ وکٹوریہ روڈ میں میرے ساتھ تھا۔یہ نکہ بھان دونوں مہمانوں کی کثرت سے سرائے بنا ہوا تھا۔کچھ سامان بگیرید غلام احمد صاحب کی رہائش گاہ فقر می لاج میں تھا۔وزارت خارجہ کا دفتران دنوں کلنٹن میں موٹا ٹا پلیس میں تھا۔نیو یارک کے اس سفر میں میرے رفقاء چودھری محمد علی صاحب سیکریٹری جنرل ، سید محمد وسیم صاحب ایڈوکیٹ جنرل ، کرنل مجید ملک صاحب اور ایک دو عملے کے اصحاب تھے۔متعلقہ کا غذات بھی بکھرے ہوئے تھے۔ذاتی سامان کے علاوہ جو کاغذات اور دفتری سامان وغیرہ ہیں ساتھ لے جانا تھا اس کے لئے بکس تک میسر نہ تھے۔چنانچہ جلدی میں کا غذات اور سامان کا اکثر حصہ بوریوں میں باندھ لیا گیا اور یہ قافلہ ۸ رکی رات کو نیو یارک روانہ ہو گیا۔کیس کی تیاری کے لئے ابھی کوئی وقت نہیں ملا تھا۔کشمیر کے قصبے کی تفاصیل کا مجھے کئی علم نہیں تھا۔اس موقعہ پر بھی میں ویسے ہی کو را تھا جیسے حد بندی کے کیس کے وقت اللہ تعالی اسے تو فیق علمی اور اس کے دم پر ہی بھروسہ تھا۔البتہ اس دفعہ مجھے چودھری محمد علی صاحب کا تعاون اور ان کی رفاقت حاصل تھی |