تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 529 of 736

تحدیث نعمت — Page 529

۵۲۹ نشتر صاحب برما کے جشن آزادی میں پاکستان کی نمائندگی فرمائیں ؟ قائد اعظم یہ تم وزیر خارجہ ہو اور یہ کام تمہارا ہے۔رنگون جانے کے لئے میں یکم جنوری کو کراچی سے کتے گیا۔رات عزیز اور احمد کے ہاں ٹھہرا۔شہید سورنا صاحب ملنے کے لئے تشریف لائے اور اپنی مصالحتی مسائلی کی تفاصیل سے مجھے مطلع فرمایا۔دوسے دن میں کتے سے رنگون چلاگیا۔رنگوں کے قیام کے دوران میں رنگون کے تجارتی طبقے کے مسلمانوں نے مجھے اپنی مجلس میں طلب فرمایا برما کی قومیت کا جو قانون تجو یہ ہوا تھا اس کے مطابق مسلمان تاجروں کی کثیر تعداد بہ می قومیت حاصل کر سکتی تھی وہ مجھ سے مشورہ چاہتے تھے کہ کیا برمی قومیت حاصل کرنا ان کے لئے مفید ہو گا۔میں نے باقابل مشورہ دیا کہ جو صاحب بھی برمی تو میت حاصل کر سکتے ہوںانہیں یہ تمام ضرورکرنا چاہئے اور ریما کو انا ما سمجھ کر وفاداری کے ساتھ مل کی بہودی کو فروغ دینے میں پورا تعاون کرنا چاہیئے۔اقوام متحدہ کی مجلس امن میں قضیہ کشمیر ، جنوری کو کراچی واپسی ہوئی آغا ہالی صاحب جوان و توں کی پیروی کے لئے نیو یارک کا سفر وزارت خارجہ میں ڈپٹی سیکر یٹری تھے مجھے کورنگی کریک پر لے اور بتایا کہ ہندوستان نے کشمیر کا معاملہ مجلس ان میں پیش کر دیا ہے اور مجلس امن نے انکی درخواست کی سماعت کے لئے مو ر جنوری مقرہ کی ہے اور کل شام تمہیں کراچی سے روانہ ہونا ہے۔انہوں نے ایک انسیناک وقوع کی خبر سنائی۔سندھ کا صوبہ تقسیم کے نتیجے میں فرقہ وارانہ فسادات سے محفوظ رہا تھا اور کراچی میں کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا تھا۔صوبہ سرحد سے جو ہندو اور سکھر ہندوستان میں منتقل ہونا چاہتے تھے ان کے متعلق یہ انتظام تھا کہ وہ اپنے اپنے مقامات سے کراچی اس وقت آئیں جب بھٹی جانے والا کوئی بہانہ میسر ہو۔جب ایسا موقعہ ہوتا تو افران ضلع کو اطلاع کر دی جاتی اور وہ ان لوگوں کو کراچی بھجوا دیتے۔انہیں ہدایت تھی کہ ان لوگوں کو ایسی گاڑی سے بھیں تو راتوں رات سفرکر کے عل الصلح کراچی پہنتی ہو۔کراچی پہنچنے پر اسے مسافروں کو شہر کے ٹیشن سے سیدھے بندر گاہ پر پہنچا دیا جاتا اور وہ آسانی سے بہانہ پر سوار ہو جاتے۔اس دفعہ سکھوں کا ایک قافلہ غیر کسی اطلاع کے خود بخود دن کے وقت ریل پر سوار ہو کر ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا پنے پیٹیشن سے تانگے کرائے پر لیکر وہ شہر میں ایک گوردوارے کو چلدیے اور رستے میں فرے بھی لگاتے گئے اس سے مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہو اور فساد ہوگیا۔قائداعظم کو خبر لی تو انہیں سخت رنج ہوا۔انہوں نے فورا سکندر مرزا صاحب سیکریڑی وزارت دفاع کوطلب فرمایا اور ارشاد فرمایا ک الان وقت تک مجھے رپورٹ آئی چاہیے کہ شہر مں بالکل امن ہو چکا ہے۔اگریں نہ ہو تو مجھے کسی اور کوسیکر یٹری دفاع مقریر کرنا پڑے گا۔سکندر مرزا صاحب نے بعد میں مجھے بلایا کہ یہ کم سے ہی انہوں نے واپس آکر کراچی کے کمانڈر بیان کرناں