تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 523 of 736

تحدیث نعمت — Page 523

پڑھ رہا ہے۔کوشش کرو کہ آج رائے شماری ضرور ہو جائے۔اس صورت میں ہم تقسیم کے خلاف رائے دیں گے۔لیکن اگر آج رائے شماری نہ ہوئی تو پر معلوم نہیں کیا صرت ہو۔میری موجودگی میں انہوں نے اپنی سیکر یٹری کو کہامیں اب اسمبلی کے اجلاس کے لئے جارہتا ہوں میرے نام کہیں سے بھی کوئی پیغام آئے تو مجھے مت بھیجا جو کچھ بھی ہوگا میں واپس آکر دیکھ لوں گا۔مجھ سے کہا آپ نے دیکھ لیائی نے آج کا انتظام تو کرلیاہے۔میں نے ان کا تہ دل سے شکریہ دا کیا اورمیں بھی اسمبلی کے اجلاس کے لئے الشنگ ہا گیا۔صبح کا اجلاس ختم ہونے کی یہ قیاس محکم ہوگیا کر قیم کی تجونه منظور نہیں ہوں گی۔سہ پہر کا اجلاس شروع ہونے سے عین پہلے السید فاضل جمالی وزیر خارجہ عراق زی میری پریشانی کی حالت میں میرے پاس آئے اور فرمایا میں نے سناہے کہ آج کا اجلاس بغیر رائے شماری ملتوی ہو جائے گا۔چلو صدر اسمبلی سے چل کر معلوم کریں۔امبانی کے صدر برازیل کے سر بانی تھے۔ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔انہوں نے فرمایا کل THANKS GIVING DAY ہے اور سیکہ بیٹری جنرل ٹر گرے لی کہتے ہیں اسمبلی کا اسٹاف آج شام دیمہ تک کام کرنے پر رضامند نہ ہو گا۔اسلئے آج سمیر پر کے اجلاس کے بعد اجلاس پر تو صبح تک ملتوی کرنا پڑے گا ہم نے کہا کہ رائے شمار کی آج سر پر کے اعلان کے آخر میں ہو جانی چاہیے۔صدر نے فرمایا اس کے لئے وقت نہیں ہو گا۔ابھی پانچ تقریر یں باتیں ہیں۔پھر مکن ہے لبعض مند و بین رائے شماری سے پہلے پنی رائے کی وضاحت کرنا چاہیں ہم نے کہا اپنے تقریریں کرنے والوں سے دو تو ہم ہیں جو آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔آپ ہمارے نام فہرست سے کاٹ دیں باقی صرف تین رہ جائیں گے اور آراء کی وضاحت کے متعلق آپ کا اختیار ہے کہ آپ اسے رائے شماری ہو جانے کے بعد تک ملتوی کر دیں۔لیکن وہ آمادہ نہ ہوئے۔ہم ان پر کوئی دباؤ نہیں ڈال سکے تھے کیونکہ اگر تقسیم کے حامی انتو پر مصر تھے توصر اگر التواء پر رضامند نہ بھی ہوتے تو کثرت رائے سے التوا ضرور ہو جاتا۔لیکن یہ عذر کے سٹاف و نیک کام کرنے پر رضا مند نہ ہو گا ایک عذر لنگ تھا۔اس کے بعد آج تک نہ صرف T HANKS GIVING - DAYسے پہلی شام سٹاف نے حسب ضرورت دیر تک کام کرنے پر کوئی عذر نہیں کی بلکہ HAFS٩١٧١٧٤ پر بھی ہمیشہ GIVING DAY اسمبلی کا اجلاس دو بجے بعد دو مہر تک ہوتا رہتا ہے۔اس میں شک نہیں کہ صدر سمبلی اور سیکی بیڑی جنرل دو نوں امریکن دباؤ دباؤ کے ماتحت یا ذاتی رجحان سے صیہونیوں کی تائید میں تھے اور جب تقریروں سے یہ ظاہر ہو گیا کہ تقسیم کی تجویز کو دو تہائی کی تائید حاصل نہیں تو وہ دونوں اس منصوبے میں شریک ہو گئے کہ اعلاس جمعہ کی صبح تک ملتوی کیا جائے تاکہ اس وقفہ میں صیہونی صدر ٹرومین کے دباؤ کے ذریعہ تین چار ایسے ممالک کی تائید حاصل کر سکیں جو اب تک تقسیم کے خلاف تھے۔سہ پہر کے اجلاس میں میں نے اپنی تفریم می مغربی طاقتوں کو پر زور انتباہ کرتے ہوئے کہا۔آپ نے