تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 503 of 736

تحدیث نعمت — Page 503

۵۰۳ پاکپٹن سے اور چودھری علی اکر صاحب بہشیانہ پورے چاروں نے فرمایا ہم تمہارے ساتھ شریک کار ہونا چاہتے ہیں جو خدمت کا موسم سے لو۔اللہ تعالی کا یہ مزید فضل ہوا کہ اس نے چار با اخلاص اور متعد کام کر نیوالوں کے المیں تحریک کی کہ وہ میرے ساتھ آکر شامل ہوں اور میرے میر اور معاون ہوں۔لاہور کے وکلاء میں سے احمد سعید کرمانی صاحب وقتا فوقتا تشریف لاتے رہے اور جس کام کیلئے ان کی خدمت میں گذارش کی جاتی اس کی طرف توجہ فرماتے رہے۔اللہ تعالیٰ ان سب کو دنیا و آخرت میں اپنی رحمت سے وافر حصہ عطا فرمائے۔آمین میرے چاروں رفقائے کار نے نہایت محنت ، مستعدی اور جانفشانی کے ساتھ دن رات میرے ساتھ کام میں تعاون کیا۔ہر قسم کی تکلیف برداشت کی لیکن کبھی حرف شکایت زبان پر آیا نہ مانے پر کن سارا وقت پوری انباشت کے ساتھ مصروف کار رہے۔ہر مرحلے پر ان کا مشورہ میرے لئے حوصلہ بڑھانے کا موجب ہوا۔فجزاهم الله حسن الجزاء چودھری علی اکبرما کے سپر د آبادی کے اعداد و شمار کی تصدیق اور ضروری معلومات کا بہم پہنچانا تھا انہوں نے نے فرائن کو بڑی متعدی سے نبھایا اگر چہ انہیں ایک سرانجام دہی میں بہت دوڑ دھوپ کرنی پڑی جولائی کے نے میں لاہور کا موسم سخت گرم ہوتا ہے لیکن گرمی کی شدت چو دھری صاحب کے رستے میں کسی قسم کی رو پیدانہ کر سکی وہ تکان سے پور آتے اور اپنے کام کی رپورٹ سن کر میں فرش پر دراز ہو جاتےاور کچھ آرام کرنے میشن کے رویہ و محبت کے دوران میں جب کبھی آبادی کے اعداد و شمار کے متعلق فریقین کے درمیان اختلاف پیدا ہو تاتو ایک صاحب فریق مخالف کی طرف سے اور چودھری صاحب ہماری طرف سے نامزد کئے جاتے کہ دفتر آبادی می جا کر تینا اعداد و شمر کی تصدیق کریں فضل اللہ ہر بار ہارے پیش کردہ اعداد و شمار کی تصدیق ہوتی جس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ واجہ عبدالرحیم صاحب نے تو نقشہ جات میں عنایت فرمائے تھے وہ بہت محنت اور توجہ سے تیار کئے گئے تھے۔ملحقہ اکثریت کے علاقوں کی تشخیص کیلئے یونٹ کا تعین خواجہ صاحب کے تشریف لیجانے اور وکلاء صاحبان کی تشریف آوری کے بعد نے پہلا کام یہ کیا کہ طریقہ تقسیم کے متعلق سرکاری بیان کا مطالعہ کیا اور اس کے تجزیہ سے کم اس تیہ رہنے کہ ملحقہ اکثرت کے علاقوں کی تشخیص کے لیے یونٹ کا جو نہ کرنا لازم ہے۔گاؤں تو ملا لیا اونٹ نہیں بن سکتا تھا کیونکہ بعض علاقوں میں اگرایک گاؤں میںمسلم اکثرت تھی تو ساتھ کے گاؤں میں غیرمسلم اکثرت تھی لہذا گاؤں کو یونٹ قرار دیکر کوئی معقول حد بندی تجویز نہیں ہوسکی تھی۔تھانہ کو اگر وٹ تجویز کیا جاتا تو اس صورت میں بھی بہت جگہ دی مشکل در پیش تھی۔یونٹ مقر کرنے کیلئے انتخاب دراصل تحصیل اور ضلع کے درمیان تھا گو نے یہ بھی طے کیاکہ بحث کے دوران میں ہماری طرف سے کمشنری اور دو آلو کو یونٹ مقرر کرنے کی طرف بھی اشارہ کر دیا جائے۔ان دنوں صوبے بھر کے اخبارات میں ملحقہ اکثریت کے علاقوں پر بحث ہوری تھی مسلمانوں کی طرف سے لدرجیا تک کا علاقہ مسلم اکثرت کا حلقہ بنایا جاتا تھا اور غیرمسلموں کی طرف سے کہا جا رہاتھاکر میل تک کا علاقہ غیرمسلم اکیت *