تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 504 of 736

تحدیث نعمت — Page 504

۵۰۴ کا علاقہ ہے۔عارضی انتظامی تقسیم میں راولپنڈی ملتان اور لاہور ڈوین کے جملہ اضلاع ماسوائے کانگڑہ مغربی پنجاب میں شامل کئے گئے تھے۔اگر ہماری طرف سے ضلع کو لوٹ قرار دیے جانے کا مطالبہ کیا جاتا تو اضلاع میں سے امرتسر کو ترک کرنا پڑتا۔اس خدشے کا اظہار بھی کی گی کہ اگریم نے ضلع کو یونٹ قرار دیے جانے کا مطالبہ کیا تو اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جائے گا کہ م انتظامی تقسیم میں جو علاقہ مغربی پاکستان میں شامل کیا گیا ہےاس سے بھی کم علاقہ لینے پر رضامندہیں اور اس کے پینے میں مکن ہے ہمارے لئے کار بھی کم کردیا جائے۔تحصیل کولون را ی ی ی ی ی ی ر ا ا ا ا ا ا ا ا ع فریدون پور کی د تقلیلی فیروز پور اور زیرہ اور ضلع جالندھر کی دو تحصیلیں نواں شہر اور جالندھرمسلم اکثریت کے علاقے تھے۔ان کے ساتھ مشرق کی طرف ملحقہ تحصیل دوسوم ضلع ہوشیار پور تھی۔اس تحصیل میں نہ مسلمانوں کی رات تھی یہ ہندو اور سکھوں کی عیسائی آبادی حسین فریق کے ساتھ شامل کی جاتی اس فریق کی کثرت ہو جاتی۔اس تحصیل کے عیسائیوں کی طرف سے سرسرل ریڈ کلف کی خدمت میں محضر نامہ ارسال کیاگیا تھاکہ ہمیں مسلمانوں کے ساتھ شمار کیا جائے۔لہذا تحصیل کوکونٹ قرار دیے جانے سے فیروز پور نزیرہ، نواں شہر، جالندھر اور بیبیوں کے شامل ہونے سے دسو ہر پانچوں تحصیلی مسلم اکثریت کے علاقے شمار ہوتیں۔ریاست کپور تھلہ میں بھی مسلمانوں کی کثرت تھی وہ بھی ان تحصیلوں سے ملحق علاقہ تھا۔ضلع امرتسر میں اجنالہ تحصیل میں مسلمانوں کی کثر تھی اور امرتی اور تمدن تارن میں غیرمسلموں کی لیکن اگر یروز پور ، دیر ، نوال شہر جالندھر اور کپور تھلہ پاکستان میں شامل کئے جاتے تو امرتی اور تہ تارن فرمسلم اکثرت کے ملحق علاقے نہ رہتے کیونکہ وہ چاروں طرف سے مسلم اکثریت کے علاقوں سے گھرے ہوئے تھے۔ضلع گورداسپور میں ٹالہ گورداسپور اور شکر گڑھ کی تحصیلوں میں اکثریت مسلمانوں کی تھی اور تحصیل پٹھانکوٹ میں غیرمسلموں کی یہ تحصیل کانگڑہ اور ضلع ہوشیار پورسے ملتی بھی تھی جوغیرمسلم اکانت کے اضلاع تھے۔پورے غور و خوض کے بعد ہم سب کامیان اسی طرف ہوا کہ تحصیل کو یونٹ قرار دیئے جانے پر درودیا ائے لیکن اس بات کا یا یہی ہے میاں کی نا پہن کر سکے تھے ہم ملک کی طرف سے دلیل کے طور پر ان کا کیس تیار کر رہے تھے۔لیگ کی طرف سے کیا کیس پیش کیا جائے اس کا فیصلہ کر مسلم لیگ کے اختیارمیں تھا۔پنجاب میں مسلم لیگ کے صدر نواب صاحب محدوٹ تھے۔ان سے استصواب لا حاصل تھا۔وہ اپنی روایتی تواضع اور انکاری کی وجہ سے خود کوئی فیصلہ فرمان ہی نہیں تھے اور چونکہ ہرا میں اپنے قریبی مشران کی راے کو قبول فرماتے تھے۔اس لئے تفصیل پر غور کرنے ملکہ تفاصیل کا علم حاصل کرنے سے بھی پر ہیز کرتے تھے۔ان ایام میں ان کے قریب ترین میرا میان نماز محمد خال او دولتانہ اور سردار شوکت حیات خمال صاحب تھے۔سردار صاحب کی طبیعت علیل تھی میاں صاحب کی خدمت میں میں نے گذارش کی کہ تحریری بیان تیار کرنے کیلئے اس امرکا فیصلہ ضروری ہے کہ ملحقہ اکثرت کے علاقوں کی تشخیص کے لئے ہماری طرف سے کون ایونت اختیار کرنے پر زور دیا جائے۔انہوں نے فرمایا اس بات کو تم سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے۔جو جونہی تم کرو گے وہی بہتر ہوگی۔میں نے کہا یہ فیصلہ لیگ کی طرف سے ہونا چاہئے۔میں تو ایک فرد واحد ہوں اور میری حیثیت بھی دوکیل کی ہے۔