تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 469 of 736

تحدیث نعمت — Page 469

749 کیا اور ان کے درمیان مفصل گفتگو ہوئی۔بعد میں انہوں نے مجھ سے فرمایا مجھے ڈاکٹر نیلم کے نظریات قبول کرنے میں تو بہت تامل ہے لیکن اس شخص کے پاس کوئی ایک علم مزور ہے جس کی تحقیق ہونی چاہیئے۔آسکو نسوار کے موسم گرما میں نظر بند کئے گئے تھے لیکن دو سال بعد رہا کر دیئے گئے تھے۔رہائی کے عادی ہوں نے پھر لندن میں رہائش کا انتظام کر لیا۔اس کے بعد تب بھی مجھے لندن جانے کا اتفاق ہونا میں انہیں کے ہاں قیام کرتا سائنٹفک تحقیقات کی دھن انہیں آسیہ کار امریکہ سے گئی۔انہوں نے لاس انجلیز میں سکونت اختیار کر لی۔شاہ 1901۔میں حبیب میں اقوام متحدہ کی اسمبلی کے اجلاس کے لئے امریکہ کیا تو ان سے ملنے لاس انجلیز بھی گیا پھر اشیاء میں جب میں سجا پانی صلح نامے کی کانفرنس میں شمولیت کیلئے سان فرانسسکو گیا تو وہاں مجھے ملنے کیلئے آئے اور کانفرنس کے اختتام پر اصرار سے اپنے ساتھ دو تین دن کیلئے RED WOODS 2 RED WOODS کی سیر کیلئے لے گئے۔بجلی کی بعض شعاؤں کی تحقیق کے دوران میں ایک دن انہیں بجلی کا سخت بھٹکا لگا جس کی وجہ سے ایک لمبا عرصہ بیما رہ رہے۔بعد میں مجھے لکھا کہ اب تقریباً صحت یاب ہو چکا ہوں اور آرام اور بحالی صحت کیلئے سیا بارہ کیا آیا ہوا ہوں لیکن کچھ دنوں بعد طلائے می که درفعت کمزوری عود کر آئی اور جاں بحق تسلیم کی۔وہ اپنی ذاتی خوبیوںاور اعلیٰ اخلاق کے باعث ایک نہایت ہی قابل قدر انسان تھے اور میرے نہایت با و نا مشفق دوست اور بھائی تھے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔اللہ تعالٰی وافر رحمت اور غفران کا سلوک فرمائے آمین۔ول بدر درآید ز بجبر این چینی یکی رنگ و دست لیک خوشنودیم به فعل خدا وند کریم فلسطین کے سلسلہ میں لارڈ جب دوسال بعد آسکر رہا ہو کہ آگئے تو لارڈ لٹن سے پھر ملاقات کا لٹن کی مجھ سے آزردگی اتفاق ہوا اور ہم تینوں نے کچھ وقت اکٹھے گزارا۔اس کے دو تین سال بعد ایک موقعہ پر طاری مٹن کو مجھ سے دوستانہ شکوہ بھی ہوا لیکن وہ معاملہ آسکر کے ساتھ تعلق نہیں رکھتا تھا کا قضیہ فلسطین سے متعلق تھا۔لارڈئٹی فلسطینی نوسینٹ کمپنی کے صدر تھے۔انہیں طبعاً فلطین کے حالات میں گہری دلچسپ تھی ایک مرتبہ جب میں انگلستان میں تھاتوان کی ایک تقریر یتیم اس میں رائیل انسٹی ٹیوٹ ان انٹر نیشنل ایریز کی تیری میں فلسطین کے موضوع پر ہوئی۔انہوں نے اپنی معلومات کی بنا پر تقریر میںامید ظاہر کی کہ صیہونیوں اور عربوں کے دوستانی سمجھوتے کی صورت پیدا ہوسکتی ہے اور اپنی طرف سے سمجھوتے کا ایک خاکہ بھی پیش کیا۔ان کی تقریر کے بعد میں نے بھی کچھ کہنے کی اجازت چاہی۔فلسطین کے حالات کے مطالعہ کے نتیجے میں میرا تاثر تھاکہ صیہونی اپنی طاقت کو بڑی سرعت سے مضبوط سے مضبوط تر کرتے چلے جارہے ہیں اور وہ کسی ایسے سمجھوتے پر تیار نہیں ہوں گے جس کے نتیجےمیں فلسطینی عربی کے حقوق کی کا تحفہ حفاظت ہو سکے۔میں نے محض الفاظ میںاپنے تارہ کا اہانہ کیا۔عیسائی مذہب میں میاں بوی