تحدیث نعمت — Page 470
سم کی علیحد گی بذریعہ طلاق کے خلاف حضرت شیخ کا ایک مقولہ یہاں کیا جاتا ہے۔THOSE WHOM GOD/ HAS Joined Together Let NO MAN Put AsundeR یں نے اس مقولے کے الفاظ میں تبدیلی کے کہا۔فلسطین میں جو صورت پیدا ہوگئی ہے اس کا صحیح نقشہ ان الفاظ میں پیش کیا جا سکتا ہے:۔« Those Whom God Has Put AsundeR LET NO MAN Join Together” میرا یہ کہنا تھا کہ مال نہقہوں سے گونج اٹھا اور اس موضوع پر سنجیدہ بحث کا امکان ہم نہ رہا۔میٹنگ کے بعد وارڈ لیٹن نے آزردگی کے لیے میں مجھ سے کہا تم نے اس قولہ کے الفاظ کو بدل کر مری تقریر کا سارا اثر زائل کردیا اور میری محنت ضائع ہوگئی۔لیکن میں نے غلط نہیں کہا تھا۔اس واقعہ پر تقریباً پچیس سال گزر چکے ہیں لیکن اتیک کھوتے کی صورت پیدا نہیں ہوئی۔ایک مرتبہ جنگ ہوچکی ہے اور اندیشہ ہے کہ پھر نگ کی صورت پیدا ہوگی۔سر ماریں گو ائر چیف جسٹس ہندوستان میں جنوری کے پہلے ہفتہ مں لندن پہنچا تھا۔اسی دوران کی جگہ سر پرک سپنیز کا تقریر میں اعلان ہوا کہ ہندوستان کے چیف جشن سرماریس گوائر ی میعاد ختم ہونے پر ان کی جگہ سی پیک سپی کا تقریر ہوا ہے۔میرا خیال تھاکہ سرماریس کے بعد میرے نیز رفیق سر سرینواس در دا چاری چیف جسٹس ہوں گے۔وہ ایک قابل حج اور فاضل قانون دان تھے۔طبعیت کے بہایت شریف اور مزاج کے ویسے تھے اور ہر لحاظ سے اس قابل تھے کہ انہیں ہندوستان کا پہلا ہندوستانی چیف جسٹس ہوتے ا اعزاز حاصل ہوا۔یہ بھی ایک موقعہ تاکہ حکومت برطنیہ ہندوستان کی آزادی کی طرف ایک قدم بڑھائےاور ہندوستان کا چیف جسٹس ایک ہندوستانی کو مقر کرے۔مجھے اس بات پر بھی کچھ حیرت ہوئی کہ سرماری گوار نے جنون امو می بندر رواں انستان کے ساتھ پوری ہمدردی رکھتے ہی کیوں یہ مشورہ نہ دیا کہ سر سریواس ان کے جانشین ہوں۔میں نے سر جھیز گرگ سے کہا یسم اری گوار د مالی لحاظ سے بڑے پائے کے انسان ہیں۔ان کے ساتھ کام کرنا میرے لئے تھر کا موجب ہے۔میں نے بہت کچھ ان سے سیکھا ہے۔سرمیٹرک سینز کو میں نہیں جانتا۔کیا آپ انہیں جانتے ہیں ؟ فرمایا جانتا ہوں۔میں نے دریافت کیا کیسی پائے کے انسان ہیں ؟ کہا پارلیمنٹ کے نمبر ہیں۔بیرسٹر ہیں، وزیہ ہند کے دوست ہیں اور بس۔میں نے پو سچا ان کا انتخاب کیسے ہوگیا؟ کہنے لگے میں نے کہا ہو ہے امیری کے دوست ہیں یا میرے دلی پہنچنے پر سرماریس گواٹر نے مجھ سے کہا میری جانشینی کے اعلان پر تمہیں صدمہ ہوا ہو گا ؟ میں نے کہا بیشک مجھے تو پوری امید تھی کہ آپ مج دور دا مجاہدی کے تقریر پر زور دیں گے اور آپکی سفارش ضرور مانی جائے گی۔فرمایا لیکن مجھ سے تو کسی نے پو چھائی نہیں میں منتظر تھا کہ جب مجھ