تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 457 of 736

تحدیث نعمت — Page 457

IN-WAITING - ملکہ میری دوران جنگ میں قصر بیڈ منٹن میں ٹھہری ہوئی ہیں۔جو گلوسٹر شائر میں ہے ان کی طرف سے تمہیں ان کے ہاں ایک دن مہمان ہونے کی دعوت ہے۔میں نے دریافت کی کیا یہ تمکن ہوگا ہمیں صبح جاوں اور رات لندن واپس آجاؤں۔انہوں نے کہا دعوت کے مطابق ایک دن سر پر کولندن س جانا ہو گا اور دوسرے دن دو پر کولندن واسی وسکے گی۔میں نے کہا اس صورت میں تومیرا جانا نہ ہوسکے گا۔پرائیویٹ سکریٹری صاحب نے کہا کہ شاہی دعوت تو منزلہ کم ہوتی ہے انکار کی تو گنجائش ہی نہیں میں نے کہا یہ تو بھی جانتا ہوں لیکن میں تخیل انشا سے اس لئے معذور ہوں کہ میں آدھی دنیا کا چکر کاٹ کر یہاں پہنچا ہوں۔میرے ساتھ بنات مختصر سامان ہے جس میں شام کے کھانے کا لباس نہیں۔پرائیوٹ سیکریٹری نے کہا یہ کوئی ایسی شکل نہیں اس کا درس کے ہاں سے ہرقسم اور ہر باپ کا لباس کرانے پھیل جاتا ہے میں نے کہا میں بھی جانتا ہوں لیکن مجھے کراتے کالباس پہنا گوارہ نہیں۔پرائیوٹ سیکریٹری نے کہا اچھا امی لارڈ کلاڈ سیملٹن کو سعو ملکہ میری کے E QUERRY (افسر حضوری) میں ٹیلیفون پر تبادوں گا کہ تم اس وجہ سے حاضر نہیں ہو سکتے۔تین دن بعد انہوں نے مجھے بتایا کہ لارڈ کلاڈ سمیٹین سے یدیا گیا تھا نہوں نے ٹیلیفون پر کہاہے کہ ملکہ فرماتی ہی شام کے کھانے کا لباس لازم نہیں تم میں لباس میں چاہو آسکتے ہو۔اب تو تعمیل ارشاد کے بغیر چارہ نہیں تھا۔مکہ مری کی شخصیت بڑی بارعب تھی۔میرے دل میں ان کا بڑا اخترم تا۔گول میز کانفرنس کے ایام میں اور پھر ، جارج شتم کی بیوی کے موقع پر مجھے تین چار باران کی خدمت میں پیش ہونے کا اتفاق ہوا تھا۔تاجپوشی کے موقعہ پر ی شاہی مہمان تھا لیکن اس وقت میری حیثیت اپنے ملک کے نمائندہ کی ی تھی۔یہ پہلا موقع تھاکہ میں ذاتی حیثیت میں شاہی مہمان ہوا۔لارڈ کا ملٹی مجھے اسٹیشن پریل م مل گئے اور محل تک سنختے پہنچتے مجھے ان سے وہاں کے محول کے متعلق کچھ معلمات حاصل ہوگی ترین پیکان بورک کامل خان کی بیگم لکہ میری کی بھیجی تھیں۔مالی اس تعلق کی وجہ سے ملک نے یہ نظام منظور فرمالیا تھاکہ جنگ کے دوران میں اس محل کے یک حصہ میں اپنی رہائش کا نظام اپنی سند اور مرضی کے مطابق کریں۔ہم ہارنے سے قبل مل میں پہنچے۔لارڈ بھلا مجھے میرے کمرے میں لے گئے اور کہ تم کچھ آرام کر لو۔میں میں من میں آکر نہیں چائے کیلئے نیچے لے چلوں گا۔ملاقاتی کرے ہیں نے تومیں نے اسے کہا مجھے چائے کے آدب سے مل کر دیں۔انہوں نے کہا کوئی خاص آداب نہیں دس منٹ تک مکہ تشریف لے آئیں گی ان کے علاوہ صرف لیڈی لینگٹن ہوں گی جوان دونوں ملکہ کی بیٹی ان وٹینگ (مصاحبہ ) ہیں۔ملک خودی میزبانی کریں گی۔نوکر طلب کئے جانے پر کرے میں داخل ہو گا اور تعمیل ارشاد کے بعد چلا جائے گا۔میں نے دریافت کی ملکہ کو خطاب کرنے کا کیا طریق ہے ؟ انہوں نے کہا عام طور پر MAAM کہ کر خطاب کیا جاتا ہے۔میں ے پو چھالیڈی لینگ در نزدیکی که با وقار خاتون تو نہیں جن کے ماں عرصہ ہو اور اس کے گورنر تھے۔لارڈ کارڈ نے کہا ہاں وہی ہیں اور لورہ تشریف لے آئیں۔میں نے لیڈی لینگٹن سے کہا جب میں لندن میں طالب علم تھا آپ کے