تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 453 of 736

تحدیث نعمت — Page 453

حاضر مومتا رہا اور ہر بار ان کی شفقت اور توجہ کا مورد ہوا۔وہ ہرانان کو اور خصوصاً ہر مرض کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔اس میں بڑے پچھوٹے ، کالے گورے، مرد، عورت ، امیر، غریب کا کوئی امتیاز نہیں تھا۔نہایت متواضع اور منکسر المزاج تھے۔۹۳ سال کی عمر پائی اور آخر تک اپنے فرائض کو تو جہد اور سندھی سے سرانجام دیتے رہے۔گرمیوں کے موسم میں ہفتہ اور اتوار بوسٹن سے باہر چلے جاتے تھے۔اور یہ دوران میسا چوسٹ کے شہر اکسفورڈ میں ذیا بیطس کے مریض بچوں کے کیمپ میں تھے مریضوں کی صحبت میں گزارتے تھے۔پہلی بار کے معائنے کے بعد میں صرف ایک بار اسپتال میں ٹھہرا۔بعد کے معاش نے ان کے مکان پر ہوتے رہے وہ مکان بھی چھوٹے پیمانے پر ہسپتال ہی تھا۔وہاں بھی ہرفتم کا سامان موجود تھا۔نون اور پیشاب کا معام ایکسرے کی تصاویر ELECTO CARDIOGRAM سب کچھ وہیں مکمل ہو جاتے تھے۔عموماً ناشتے کے قبل سے سہ پہر تک تمام معائنہ مکمل ہو جاتا تھا۔البتہ آنکھوں کے معائنے کے لئے جب ضرورت پڑتی خود ہی ڈاکر متھم کیساتھ وقت مقر کر کے مجھے انکی خدمت میں بھیج دیتے۔ان کا مکان بھی قریب ہی تھا۔عمر کے آخری سالوں میں نیو انگلینڈ ڈ کینسر ہسپتال کے پہلومیں ان کیلئے تو سن انسٹی ٹیوٹ قائم کر دی گئی تھی اور سڑک کا نام بھی بوسن روڈ رکھ دیا گیا تھا۔جب انسٹی ٹیوٹ قائم ہوگئی تو انہوں نے اپنے مکان پر مریضوں کو دیکھا بند کر دیا۔ہسپتال میں ٹھرنے میں یہ بھی فائدہ تھاکہ شام یا سر پر کو مرض ذیا بطیس کی کنہ متعلقہ پر ہیز اور علاج کے بارے میں مریضوں کو لیکچروں کے ذریعہ بابر کیا جاتا تھا۔کیونکہ اس مرض کا اولین طبیب مریض کو خود بنا پڑتا ہے۔ایک دوبار ہسپتال میں ٹھہرنے کے بعد پھر اس پر درگرام کی ضرورت نہیں رمینی علاوہ انہیں ڈاکٹر جو اس کا ذیا بطیس کے مریضوں کے لئے لکھا ہوا ہدایت نامہ بھی اس سلسلے میںمفید اور کارآمد گا ہے۔میں قریب میں سال ڈاکٹر یوسلن کی ملسل شفقت کا مورد ر ہا۔بڑی خوبیوں والے اور بہت محسن دوست تھے۔ان کی وفات میرے لئے بڑے صدمہ کا موجب ہوئی اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کے ساتھ مغفرت اور رحمت کا سلوک روا رکھے۔آمین۔پہلی بار جب معاشنے کے تمام مراحل مکمل ہو چکے تو بڑی تفصیل سے مجھے ہر بات سمجھائی فرمایا سب سے پہلے تومیں تمہیں یہ خوشخبری دنیا چاہتا ہوں کہ تو ڈاکٹر صاحب لاہور میں تمہارا علاج کرتے ہیں وہ اپنے فن میں طاق ہیں اور ان کا علاج بالکل مجھے طریق یہ جاری ہے۔دوس ہے تمہاری صحت کی حالت بہت تھی ہے۔ذیا بیطیس بینک ایک مرض ہے اور اس کے علاج اور متعلقہ یہ سبز وغیرہ کی طرف توجہ لازم ہے لیکن ہے۔ذیا بطیس اسی صورت میں خطرے کا موجب ہوتا ہے جب تک اسکا علم نہ ہوا اور اسے ضبط میں نہ لایا جائے۔اگر پیشروع میں ہی علم ہو جائے اور اسے ضبط میں لے آیا جائے تو ذیا بطیس کی وجہ سے خطرے کا اندیشہ نہیں رہتا ہرسال یا ہر دور سے سال مکمل معائنہ لازم ہے تاکہ ڈاکڑ مارا ایرانی رادیو کچھ