تحدیث نعمت — Page 430
ایک بفضل اللہ ان سے فائدہ اٹھارہا ہوں۔۴۳۰ تقر سے پہنچ گیا۔اس ر بطور جج فیڈرل کورٹ 14 جون کی شام کو لاہور سے روانہ ہوکر دس کی صبح کو میں واپ رات میں نے خواب میں دیکھا کہ میںاپنے دفتر کے کمرے میں بٹھا کام کرتا ہوں دروازہ کھل ہے اور میرے پھوپھی زاد بھائی چور عنایت اللہ صاحب بہلول پوری بنتے بنتے کمرے میں داخل ہوئے ہیں۔اس خواب کا میری طبیعت پر اتنا اثر تھا کہ صبح بدر ہونے پر میں نے خیال کیا کہ عمل تیار ہوکر ناشتے کیلئے چلوں کیونکہ چودھری صاحب میرے انتظار میں ہوں گے۔پھر یاد آیا کہ انہیں تو خواب میں دیکھا تھا۔وہ خود تو تشریف نہیں لائے۔دو دن بعد ار سجون کی رات کو سید العام الله شاہ صاحب مرحوم کو خواب میں دیکھا بیدار ہونے پر خیال آیا کر دن کے اندر دو مبشر خواب دیکھنا جن میں اسل کمیت میں پہلے کی نسبت بڑھ کر ہے کسی خاص اس کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے۔ہار کی رات کو خواب دیکھا کہ میں چودھری سردار محمد صاحب کو مٹنے کے لئے لائل پور گیا ہوں ان سے ملاقات کرنے کے بعد دل میں خیال آیا کہ میرے منام اور کالج کے زمانے کے دوست چودھری ظفراللہ خان پر سٹریٹ کا بھی یہیں ہی ان سے بھی مل لوں اوران بھی ملا ایک بار بیدار ہونے پر بڑے زور سے خیل پیرامرا کہ تین بشر خوابوں کا تواتر اور ترتیب ظاہر کرتے ہیں کہ کوئی ایسا امر پیش آنے والا ہے جو تمکن ہے ظاہر مں ایسا نظر نہ آئے لیکن حقیقت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عنایت اور الغام اور کامیابی ہے۔واللہ اعلم بالصواب۔اسی دن یعنی هار جون کو قبل دور پر شیخ اعجانه احمد صاحب اور چودھری بشیر احمد صاحب ولی سے دس دن کی رخصت پہ آئے میں نے ان سے کہا معلوم ہوتا ہے میرے حالات میں کوئی تبدیلی ہو توالی ہے۔انہوں نے دریافت کیا کوئی خواب دیکھا ہے ؟ میں نے تینوں خواب بیان کئے۔۱۶ کو وائسرائے کے ساتھ میری ملاقات کا دن تھا۔میں نے پرائیویٹ سیکریٹری کو ٹیلیفون پر بتایا کہ مجھے اسرائے کے ساتھ کوئی خاص کام نہیں اسلے میں ملاقات کیلئے نہیں ہونگا انہوں نے کہا اے ائے تمہارے ساتھ کسی اس کے متعلق بات کرنا چاہتے ہیں تم آجاؤ۔اسی سال مارچ کے مہینے میں ہندستان کی فیڈرل کورٹ کے مسلمان حج سر شاہ محمد سلیمان صاحب کی وفات ہوئی تھی، مرقوم نہایت قابل ، خوش مزاج ، خوش اخلاق اور قابل قدرستی تھے۔علاوہ اعلی درجہ کی قانونی قابلیت کے ریاضی میں خاص درک رکھتے تھے۔اور ریاضی دانوں کی نگ میں ایک خاص در سیہ رکھتے تھے ان کی دنا مسلمانان ہند کیلئے بڑے صدمے کا باعت تھی۔انالدو انا الیہ راجعون، اللہ تعالی انے فضل و رحم سے مغفرت فرمائے اور اپنی رضا اور خوشنودی سے نوازے۔آمین۔فیڈرل کورٹ کے چیف جسٹس سرباری گواٹر تھے۔اور تیرے حج سر سر بنو اس وردا چاری تھے۔سریا رس گوائر برطانیہ کے محکمہ خزانہ کے مشیر قانون رہے تھے اور گورنمنٹ آن انڈیا ایکٹ سر کا مسودہ ان کا تیار کردہ تھا۔گول میز کانفرنس در پارلیمینٹری کیٹی کے علاسوں کے دوران میں ان کے اور میرے در میان دوستانہ مراسم قائم ہو چکے تھے۔جب میں