تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 427 of 736

تحدیث نعمت — Page 427

مدلینه ہوئے میں سینیٹر رکن ہونے کی حیثیت سے کونسل کا وائس پریزیڈنٹ ہو گیا۔سر گر جاشنکر سر بابا سوامی مالیا کے ساتھ اور میرے ساتھ پورا تعاون کرتے رہے۔سجون شراء میں جب فرانس کی جمعیت پراگندہ ہوگی اور جرمنی نے فرانس پر قبضہ کر لیا اور کہا جانے لگا کہ بر طانیہ اب کیلئے جرمنی کا مقابلہ جاری نہیں رکھ سکے گا۔تو گاندھی جی تک نے کہ دیا مجھے یقین ہے کہ جنگ کی ذمداری ٹیلر پر عاید ہوتی ہے اورمیں برطانیہ کی فتح کیے دعا کرتا ہوں لیکن جب چند مفقوں کے عد اثار ایسے ظاہر ہونے لگے اور کچھ اسی بندھنے گی کہ برطانیہ مقابلہ جاری رکھ سکے گا تو گاندھی جی او نا کریں ے پھر کہنا شروع کر دیا۔ہمیں جنگ میں کوی ولچی نہیں۔یہ ہماری جنگ نہیں۔ہندوستان کو اس جنگ میں ہماری رضا مندی کے بغیر مل کر دیاگیا ہے ہم سے تعاون کی توقع نہیں کی جاسکتی۔نومبر شاید میں وزیر مالیات سر بر می رسیمین نے تخمینہ بجٹ اسمبلی میں پیش کیا۔بجٹ پر بحث کے دوران میں زیادہ تر نز در اس بات پر دیا گیا کہ ہم پر جنگ کیسرگرمیوں میں تعاون لا نزدم نہیں۔وزیر مالیات نے مجھے سے کہا بحث کے دوران میں بجٹ پر بجٹ کے نقطہ نظر سے تو جرح قدح بہت کم ہوئی ہے۔اس کا جواب تو میرے پر سے ذمہ ہے اور میں دوں گا۔بحث زیادہ نہ توسیاسی نقطہ نگاہ سے کی گئی ہے۔اس کا جواب قائد ایوان کی حیثیت سے تم دور میں نے کہا مناسب ہے۔میں نے جواب میں کہا بحث میں بہت سے امور کا تذکرہ کیا گیا ہے ان میں سے پہلے میں ان امور کو لیتا ہوں جن پر ہمارا اصولی اتفاق ہے۔ان میں سب سے اہم سوال ملک کی آزادی کا ہے۔ہمیں اتفاق ہے کہ ملک کو جلد سے جلد آزاد ہونا چاہئیے۔اختلاف صرف طریق اور رفتار کے متعلق ہے۔آپ بھی تعلیم کریں گے کہ اس مرحلے پر آزادی کے حصول کیلئے ضروری ہے کہ جرمنی کوشکست ہو۔اگر برطانیہ متقیانہ ڈالنے پر مجبور ہو جائے تو ملک کی آزادی ا ے سے کے التوا میں اڑ جائیگی۔آزادی کی پوشاک تیار ہوچکی ہے بھی ملکہ کوشش کرنی چاہئیے اور دعاء بھی کرنی چاہیے کہ جلد وہ دن آئے جب ہندوستان عزت اور فخر کے ساتھ یہ پوشاک پہنے کے قابل ہو جائے۔اس طرح میں نے مساوات، اقتصادی آزادی اور بہبودی وغیرہ مچھ سات بڑے بڑے مقاصد کے ساتھ حکومت کی طرف سے کامل ہمدردی اور اتفاق کا اظہار کیا۔دوسری طرف منگ میں حصہ لینے کے متعلق کانگریس کے موقف کا کھو کھلا پن دلائل سے بھی اور کانگریسی لیڈروں کے سابقہ بیانات سے بھی ثابت کیا۔دوران بحث میں نواب صاحب آف ڈیرہ نے مجھ سے کہا تھا۔کانگریس کے اراکین این تقارہ یہ اول و دوم تیر ی اور اپنے دلائل کی نیتی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم بھی مجانہ ہیں کہ قرآن کریم کی آیات سے استدلال کریں۔میں نے کہا آپ بھی ویسے ہی آزاد ہیں۔خودمیں نےاپنی تقریم کے ہر فقط کی ایسی قرآن کریم سے سند پیش کی۔میری تقریر کے خانے پرمولانا ظفر علی خا لصاحب اپنی جگہ سے اٹھ کر میرے پاس آئ اور ہے