تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 426 of 736

تحدیث نعمت — Page 426

صاحبزادہ مرزا اسنور احمد صاحب جو ان دنوں میرے ہاں ٹھہرے ہوئے تھے اور میرے ساتھ ہی سفر کیہ جانیوالے تھے ایٹر جوان ہی سفر کے تازہ تاروں کا پلندہ پڑھ رہے ہیں۔میں نے دریافت کیا میاں کوئی خاص بیر ہے ؟ انہوں نے تاریکے کا غذات میرے ہاتھ میں دیدیئے اور فریب کوئی خاص بات تو نہیں۔میں نے جلدی میں ورق الٹے اور یونیک کر کیا آپ کے ابا جان کار دیا پورا ہوا ہےاور آپ کہتے ہیں کہ کوئی خاص خر نہیں۔تار کے کاغذات لئے میں وقت کے کرہ میں گیا اور ٹیلیفون پر سرانڈ لو کل سے دریافت کیا سر پر کے تار پڑھ لئے؟ کہا نہیں بھی خادم نے لاکر میرے سامنے رکھے میں مں نے کہا دیکھئے۔پڑھ کر انہوں نے کہا ایک حیرت کی بات ہے۔امریکہ سے تار تھا دو ہزار آٹھ صد ہوائی جنگی جہانہ فلان برطانیہ کو بجھے گئے ہیں۔میں نے فورا قادیان میںحضرت خلیفہ المسیح کی خدمت م اطلاع کی کہ حضور کا یہ روی بھی بلوط ہو گیا ہے۔الحمدللہ۔حضور نے فرمایا میرے خط کا ر م ی ی ی ی ی ر ا ا ا ا ا ا ا ا ا ل کر کے مجھے بھی دور دوسری صبح وہی کے اسٹیشن پر شیخ اعجاز احمد صاحب ملنے آئے توں نے یہ واقع بیان کیا اور حضور کا وانا مران کے سپرد کیا کہ متعلقہ حصے کی نقل کرکے حضور کی خدمت اقدس میں ارسال کردیں۔جب " ج سرم میل کی پیشکش کی خبر آئی تو واٹ لیٹے نے مجھ سے دریافت کیا تمہارا اس کے متعلق کیا تاثر ہے۔میں نے کہا یہ پیشکش قابل عمل بھی نہیں اور فرانس اسوقت ایسی پریشانی اور پراگندگی کی حال میں ہے کہ اس کے قبول ہونے کا امکان بھی نہیں لیکن مجھے اس خبر سے تسلی ہوئی ہے۔پو چھا کس با کے متعلق؟ میں نے عرض کیا مسرحہ میں اتنی ہندوستان * کی آزادی کے کچھ خلاف رہے ہیں۔اس مشکیش سے معلم ہوتاہے کہ واقعات کے دباؤ کے ماتحت وہ اب ہندوستان کو آزادی دینے پر بھی آمادہ ہورہے ہیں پوچھا وہ کیسے میں نے کہا یہ تواس پیشکش سے ہی ظاہر ہے۔انکی یہ مرا تو نہیںہو ستی که اگر فرانس یہ پیشکش قبول کرنے اور برطانیہ فرانس ایک ملک ہو جائیں تو ہندوستان دونوں کی مشترکہ ملکیت بن جائے گا۔اور آپ کے بعد کوئی فرانسیسی سیاستدان یا مدیر مندوستان کا واٹ رہے ہوکر آ جائے گا۔اب وہ دن تو گئے کہ ہندوستان کی حیثیت برطانیہ کی ذاتی ملک کی سمجھی جائے۔وائسرائے صرف UN ! INSENIOUS کہ کر چپ ہوگئے۔اس کے بعد میں نے ان سے اس پیشکش کے متعلق حضرت خلیفہ الشیخ کے دوا کا ذکرکیا۔انہیں بہت دلچسی ہوئی بعد میں خود بعض دفعہ مجھ سے فرماتے۔مرزا صاحب نے کوئی اور رویا جنگ کے متعلق دیکھا ؟ جب شمالی افر لقد من رطانوی افواج نے پلی بار پیش قدمی کی تو اسرائے بہت خوش تھے مجھ سے کہا آخرت کی بھی ایک خبرآئی میں نے کہا ٹھیک ہے لیکن اس کے بعد پسپائی ہوگی اور دو ایک بار پڑھنا اور مجھے پہنا ہوگا لیکن آخر کار فتح ہوگی۔پوچھا مرزا صاحب کا کوئی ردیا میں نے کہا ہاں اور حضور کا ایک رویا ستایا۔بعد میںجب واقعات نے تصدیق کر دی تو اور بھی متاثر ہوئے۔ہے۔۔اپر یل نشاء میں نور جگدیش پرشاد صاحب کی میعاد ختم ہوگی اوران کی جگہ مگر جان کر باجپائی کونسل کے کن