تحدیث نعمت — Page 425
منظوری پر حکم صادر ہو گیا۔برطانوی عمل داری میں وائسراے کی کونسل میں دوبارہ تقریر کی یہ سمل مثال تھی منا الاند پر حکم صادر ہوگیا۔عملداری میں کی سلسلہ احمدیہ کی مجلس مشاورت کا اجلاس عموماً ایسٹر کی تعطیلات میں ہوا کرتا تھا۔حضرت خلیفہ المسیح ای زیر رو تجاویز پر مانے کی ابتدا علی کی نام و ارشاد فرمایاکرتے تھے کہ حضور کے ساتھ سٹیج پر بٹھ کہ تقریروں کی ترتیب اور ان کے ضبط کی نگرانی کرے۔اگر خاکسار مشاورت کے اجلاس میں حاضر ہو تاتو اس خدمت کی سعادت هم با خاک کو حاصل ہوتی۔اس نوش نفیسی کا ایک ضمنی فائدہ یہ بھی ہوتا که دوران اجلاس حضور کے کلمات طیبات سے مستفید ہوتے رہنے کے مواقع میسر آتے رہتے۔جنگ کمیتعلق حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی بعض رویا انتشار کی مجلس مشاورت کے دوران میں حضوری ے کا سارے فرمایا میں نے پچھلے اس میں رویا دیکھا کہ گویا ان شروع ہوچکی ہے اورمیں میر کے سامنے کرسی پر بیٹا ہوں ایسے ہی جیسے اب بیٹا ہوں اور میرے دائیں ہاتھ پر ذرا سے ہٹ کر ایک شخص کھڑ ے سے میں کھتا ہوں رشتہ ے اور وہ جنگ سے متعلق اہم دستار نیز میرے سامنے پیش کر رہا ہے۔ایک دستاویہ اس نے میرے سامنے رکھی تھیں میں رطانیہ نے فرانس کودعوت دی ہے کہ متحد ہوکر ایک ہی مل اور ایک ہی حکومت اور ای سی قوم بن کر جنگ جاری رکھی بیدار ہونے پر میرے دل پر ان ناشرہ تھاکہ شاید برطانیہ فرانس کی نسبت جلد کمزوری محسوس کرنے لگے۔کیونکہ اسی عورت عموماً کمزور طاقتوں کو دیا ہے۔مجلس مشاورت کے اختام پر یں لے چلاگیا ہے کی افواج نے حرکت شروع کی میٹر یہ پل برطانیہ کے وزیر اعظم موئے فرانس نے لڑکھڑانا شروع کیا، حالت بہت نازک ہوگئی۔اس مرحلے پر سر رہ چل نے فرانیسی وزیر اعظم کوایک مک ایک قوم اور ایک حکومت وکر جنگ جاری رکھنے کی دعوت دی جس کی مثال تاریخ میں اور میں نہیں ملتی۔خاک رہنے حضرت خلیفہ المین کی خدمت مںلکھا کہ حضور کارو بالا پورا ہوگیا۔حضور نے جواب میں حجر جود الامر رقم فرما اس میں تحریر فرمایا۔تین دن ہوئے میں نے روم میں کس کو کہتے سناکہ برطانیہ کو دو ہزار آمود انی جان امریکیسے بھیجے گئے ہیں اس دانا نامہ کے وصل ہونے کے تین چاردن بعد انڈریو کل کے ہاں ارکان حکم اکھانا تھا جو ہردوسری جمعرات کو باری باری ایک رکنکے ماں ہوتا تھا۔اسد ناشر کی تاریخبروں میں یک اطلاع میری ے آئی ٹی کی فرانسی خرید سان کے مشن نے تو آر ڈینگی وائی بہنوں کی خریدی کا دیا اور اب برطانوی مشن اپنے ے لے لیا اور کار برطانیہ کو دو بار پانچ جنگی ہوائی جہاز میں آجائیں گے۔جنگ کے حالات کے تذکرے میںمیں نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے اگست شاہ والے رویا اور اس دوست کر دیا کا ذکر کیا اور اسٹرکی تا یہ خبر سنائی اس پر رانڈ کو کھونے کہا لیکن تعداد کا فرق ہے۔رویا می تعداد دو ہزار آٹھ صد بتائی گئی اور تا برمی دو ہزار پانچ سے میں نے کہا تعبیر الرویا کے ماہروں کا کہناہے کہ سچے خواب اور رد یا میں تعداد کے لحاظ سے کچھ تفاوت قابل التفات نہیں۔ہوتا اصل بات کو دیکھنا چاہیے۔دومین دن کے بعد میں سفیر جانیوالا تھا۔عین وقت پر تیار ہو کر نیچے اتر تو دیکھا کہ