تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 420 of 736

تحدیث نعمت — Page 420

ور نجم کی حدتک پہنچ کر ختم ہو جاتی ہے سمندر تک ہیں جاتی اگر میں جنگ کی طرح ترین توان نے تعلیم میں سے جوکہ فرانس کی طرف بڑھنا شروع کیا تو یہ لائن انہیں کیسے روک سکے گی؟ تیرے ہوائی ملے کو بھی یہ انہیں روک سکے گی یا سرینڈ لیر نے دریافت کیا برطانوی محاذ سے تمکیا تاثر لیکر واپس آئے؟ میں نے کہا بر طانوی حصے میں توکہ ہمیں تو کسی تم ی کوئی حرکت دیکھنے میں نہیں آئی وہاں سب آرام سے بیٹھے میں یمن ہے جو منوں کے نظام میںکوئی اور مشغل نہ ہوا ملک معظم نے کانفرنس کے نمائندوں کو شام کے کھانے کی دعوت دی کھانے پر سادہ ڈی جیکٹ پہنے کی ہدایت تھی 2 " ولی واپس پہنچنے پر ڈاکٹر نے کبھی مجھے کھانے پر بلایا۔یہاں بھی لباس کے متعلق میں ہدایت تھی لیکن وہ غیر رسمی موقعہ تھا کھانے پر دائسرائے اور لیڈی لنلتھگو تھے اور صرف میں ایک مہمان تھا۔وائسرائے مجھ سے کا نفرنس کے کو الف سنتے رہے ہیں نے ملک معظم کی رسمی دعوت کے ذکر می دانست بیان کیا کہ ملک معظم خودبھی سادہ ڈنر جیکیٹ کا سوٹ پہنے ہوئے تھے اور مانوں کو بی اس اس میں آنے کی ہدایت تھی جب میں یہ کہا تو وارے نے رات کے اظہار کے طورپر اپنے اوپر چڑھائے لارڈ کیٹو) کانفرنس کے ایام میں میری ملاقات لارڈ کیٹو سے بھی ہوئی جو ہندوستان کی سب سے بڑی تجارتی فرم اینڈریو یول اینڈ کمپنی کے جس کا برا دفتر کلکتے میں تھاسربراہ رہ چکے تھے۔ان سے میری پہلی ملاقات سے اء میں لندن میں ہوئی تھی جب وہ لندن کی مرکزی فرم یول کیٹو کمپنی کے سربراہ تھے۔شاء میں وہ جنگی خدمات کے سلسلے میں روز یہ مالیات کے میر تھے۔ملاقات پر میں نے دریافت کیا آپ کا صحیح منصب کیا ہے ؟ مسکرا کر کہا ظفر اللہ میں مالیات کے لحاظ سے گو یا آرچ بشپ آف کنٹربری کا پرائویٹ چھین ہوں یعنی وزیر مالیات مالی مشیر ہوں اور میرا کام یہ ہے کہ میں سے مشورہ دوں کہ میرے جیسے آدمیوں سے روپیہ کیسے نچوڑا جاسکتا ہے۔میں نے ان سے انور حمد کا ذکر کیا اور دریافت کیا۔کیا انہیں کلکتے کی فرم اینڈریو یول میں لیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا ہمارے بہت سے افسروں نے اپنی خدمات جنگ کے سلسلے میں پیش کردی ہیں اور کچھ تو ایسی خدمت پر چلے بھی گئے ہیں۔ہمیں افسروں کی ضرورت تو پڑے گی اور میری خواہش بھی ہے کہ اعلی ماحول کے ہندوستانی نوجوانوں کو منسب ٹر جینگ و یکم کم انی فرم میں بنا شروع کریں اس وقت تک ہم نے صرف دو ہندوستانی لئے ہیں جن میں سے ایک شومئی قسمت سے فوت ہوگیا ہے۔تم کل شام اورک ساتھ لیکر میرے ہاں کھانے پر آجاؤ۔مجھے انور سے ملنے کا موقعہ بھی مل جائے گا اور میں اندازہ کرسکوں گا کہ آیا ہمارے ساتھ کام کرنا اس کی طبیعت کے موافق ہو گا۔وہ ان دونوں سسکس کے علاقے میں ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتے تھے رمایا تم چاہو نہیں ان کیلئے میں کار تمہارے ہوٹل بھیج دوں گا اوردی کار تمہیں واپس بھی لے جائے گی۔میں نے کہا کار تو حکومت کی عنایت سے ہمیں میسر ہے اسلئے آپ کو تکلیف فرمانے کی ضرورت نہیں۔دوسرے دن شام کو ہم ان کے ارشاد کے مطابق ان کے ہاں گئے۔کھانے کے بعد ہم گول کرےمیں مجھے باتیں کر رہے تھے۔اس دوران میں مجھ سے کہا ذرا ابری میں چلو۔میٹھے ہی کہانظر اللہ مجھے اور کے متعلق کچھ اور دریافت کرنے کی ضرورت نہیں ہمیں ایسے ہی نوجوان در کار ہیں۔